تیمم کب جائز ہے اور اس کا طریقہ کیا ہے؟
The question as asked, details removedاگر پانی نہ ملے تو تیمم کیسے کروں اور یہ کب جائز ہے؟More
This is a sample answer written to show how the site works. It follows the standard Hanafi books, but no mufti has reviewed or signed it yet, so it is not a fatwa. For a real answer, ask a question. Ask a mufti
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِكِ الْوَهَّابِ اَللّٰهُمَّ هِدَايَةَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
1Short answer
جب پانی تقریباً ایک میل یا اس سے زیادہ دور ہو، یا پانی کے استعمال سے بیماری پیدا ہونے یا بڑھنے کا خطرہ ہو تو تیمم جائز ہے۔ نیت کر کے دونوں ہاتھ پاک مٹی پر مار کر چہرے کا مسح کرے، پھر دوبارہ مار کر دونوں ہاتھوں کا کہنیوں سمیت مسح کرے۔
2Detailed answer
تیمم وضو یا غسل کی جگہ اس وقت کافی ہوتا ہے جب:
- تقریباً ایک شرعی میل کے اندر پانی نہ ملے، یا
- پانی کے استعمال سے بیماری پیدا ہونے، بڑھنے یا دیر سے ٹھیک ہونے کا اندیشہ ہو، کسی قابلِ اعتماد ڈاکٹر کے کہنے یا اپنے تجربے سے، یا
- پانی تک پہنچنے میں جان کا خطرہ ہو، جیسے دشمن یا درندے کا ڈر۔
طریقہ:
- پاکی حاصل کرنے کے لیے تیمم کی نیت کرے۔
- دونوں ہاتھ پاک مٹی (مٹی، ریت، پتھر یا زمین کی جنس کی کسی چیز) پر مار کر جھاڑ لے اور پورے چہرے کا مسح کرے۔
- دوبارہ ہاتھ مار کر دونوں ہاتھوں کا کہنیوں سمیت مسح کرے۔
جن چیزوں سے وضو ٹوٹتا ہے ان سے تیمم بھی ٹوٹ جاتا ہے، اور پانی کے استعمال پر قدرت ہوتے ہی بھی۔
3Evidence and sources
- قرآن مجید، النساء 4:43
- الہدایہ، تیمم کا بیان
- بہارِ شریعت، تیمم کا بیان
Arabic texts, translations and how the ruling was derived
فلم تجدوا ماء فتيمموا صعيدا طيبا فامسحوا بوجوهكم وأيديكم
مفہوم: پھر پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی کا قصد کرو اور اپنے چہروں اور ہاتھوں کا مسح کرو۔
آیت پانی نہ ہونے پر تیمم کی اجازت دیتی ہے اور اس کے دو حصے، چہرہ اور ہاتھ، بیان کرتی ہے۔ احناف کہنیوں تک ہاتھوں کا مسح ان روایات سے لیتے ہیں جن میں دو ضربوں کا ذکر ہے: ایک چہرے کے لیے اور ایک ہاتھوں کے لیے۔
وَاللهُ أَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُهُ أَعْلَمُ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ