کیا ناخن پالش کے ساتھ وضو ہو جاتا ہے؟
سوال، ذاتی تفصیلات حذف کر کےکیا عورت ناخن پالش اتارے بغیر وضو یا غسل کر سکتی ہے؟مزید
یہ نمونے کا جواب ہے جو سائٹ کا طریقۂ کار دکھانے کے لیے لکھا گیا ہے۔ یہ فقہ حنفی کی معروف کتب کے مطابق ہے، مگر ابھی کسی مفتی صاحب نے اس پر نظرثانی یا دستخط نہیں کیے، اس لیے یہ فتویٰ نہیں۔ اصل جواب کے لیے سوال پوچھیں۔ مفتی صاحب سے پوچھیں
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِكِ الْوَهَّابِ اَللّٰهُمَّ هِدَايَةَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
1مختصر جواب
جی نہیں۔ ناخن پالش ناخن پر تہہ جما دیتی ہے جو پانی کو پہنچنے نہیں دیتی، اس لیے اسے اتارے بغیر وضو اور غسل نہیں ہوگا۔ مہندی کا حکم مختلف ہے: اس کا رنگ پانی کو نہیں روکتا۔
2تفصیلی جواب
وضو اور غسل میں دھوئے جانے والے اعضاء کے ہر حصے پر، ناخنوں سمیت، پانی پہنچنا ضروری ہے۔ ناخن پالش سوکھ کر ناخن پر تہہ بن جاتی ہے اور پانی کو روکتی ہے۔ لہٰذا:
- ناخن پالش لگے ہوئے وضو یا غسل درست نہیں۔
- اس وضو سے پڑھی گئی نمازیں دوبارہ پڑھنی ہوں گی۔
مہندی صرف جلد اور ناخنوں پر رنگ چھوڑتی ہے، تہہ نہیں جماتی، اس لیے اس کے ساتھ وضو اور غسل درست ہیں۔ یہی حکم ہر اس رنگ کا ہے جس کی تہہ نہ ہو۔
3دلائل و حوالہ جات
- قرآن مجید، المائدہ 5:6
- رد المحتار، کتاب الطہارۃ
- بہارِ شریعت، وضو کا بیان
عربی عبارات، ان کا ترجمہ اور حکم اخذ کرنے کی تفصیل
فاغسلوا وجوهكم وأيديكم إلى المرافق
مفہوم: اپنے چہرے اور کہنیوں تک ہاتھ دھوؤ۔
دھونے کا حکم اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ پانی عضو پر بہے۔ فقہاء نے لکھا کہ جس چیز سے دھوئے جانے والے حصے پر رکاوٹ بنے، جیسے آٹا، موم یا پینٹ، اس کے ہوتے ہوئے دھونا درست نہیں، جبکہ محض رنگ رکاوٹ نہیں۔
وَاللهُ أَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُهُ أَعْلَمُ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ