غسل کے فرائض کتنے ہیں؟
سوال، ذاتی تفصیلات حذف کر کےغسل صحیح ہونے کے لیے کیا کرنا ضروری ہے؟مزید
یہ نمونے کا جواب ہے جو سائٹ کا طریقۂ کار دکھانے کے لیے لکھا گیا ہے۔ یہ فقہ حنفی کی معروف کتب کے مطابق ہے، مگر ابھی کسی مفتی صاحب نے اس پر نظرثانی یا دستخط نہیں کیے، اس لیے یہ فتویٰ نہیں۔ اصل جواب کے لیے سوال پوچھیں۔ مفتی صاحب سے پوچھیں
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِكِ الْوَهَّابِ اَللّٰهُمَّ هِدَايَةَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
1مختصر جواب
غسل میں تین فرض ہیں: پورے منہ میں پانی پہنچانا (کلی)، ناک میں نرم ہڈی تک پانی ڈالنا، اور پورے بدن پر اس طرح پانی بہانا کہ بال برابر جگہ بھی خشک نہ رہے۔
2تفصیلی جواب
حنفی مذہب میں غسل کے تین فرض ہیں:
- کلی کرنا، اس طرح کہ منہ کے ہر حصے میں، دانتوں کے درمیان بھی، پانی پہنچ جائے۔ روزے کی حالت میں غرارہ نہ کیا جائے۔
- دونوں نتھنوں میں نرم ہڈی تک پانی ڈالنا۔
- پورے بدن پر پانی بہانا: جسم کا ہر حصہ اور ہر بال، ناف کے اندر، کانوں کے پیچھے، اور انگوٹھی یا بالی کے نیچے بھی اگر ویسے پانی نہ پہنچے۔
اگر کوئی حصہ خشک رہ گیا تو غسل پورا نہیں ہوگا۔ سنت طریقہ یہ بھی ہے کہ پہلے ہاتھ اور شرمگاہ دھوئے، نجاست ہو تو دور کرے، وضو کرے، پھر تین بار پورے بدن پر پانی بہائے۔
3دلائل و حوالہ جات
- قرآن مجید، المائدہ 5:6
- الہدایہ، غسل کا بیان
- بہارِ شریعت، غسل کا بیان
عربی عبارات، ان کا ترجمہ اور حکم اخذ کرنے کی تفصیل
وإن كنتم جنبا فاطهروا
مفہوم: اور اگر تم جنابت کی حالت میں ہو تو خوب پاک ہو جاؤ۔
آیت مکمل پاکی کا حکم دیتی ہے۔ فقہاء اس کا مطلب یہ بیان کرتے ہیں کہ بدن کا ہر وہ حصہ دھویا جائے جسے بغیر مشقت دھونا ممکن ہو، اسی لیے غسل میں منہ اور ناک کا اندرونی حصہ شامل ہے، وضو میں نہیں۔
وَاللهُ أَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُهُ أَعْلَمُ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ