کیا چھوٹے زخم سے خون نکلنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟
The question as asked, details removedوضو کے بعد انگلی کٹ گئی اور تھوڑا خون نکلا۔ کیا دوبارہ وضو کرنا ہوگا؟More
This is a sample answer written to show how the site works. It follows the standard Hanafi books, but no mufti has reviewed or signed it yet, so it is not a fatwa. For a real answer, ask a question. Ask a mufti
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِكِ الْوَهَّابِ اَللّٰهُمَّ هِدَايَةَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
1Short answer
صرف اسی صورت میں جب خون نکل کر اپنی جگہ سے بہہ جائے۔ اگر زخم پر ہی رکا رہے اور نہ پھیلے تو وضو باقی ہے۔
2Detailed answer
حنفی مذہب میں بدن سے نکلنے والا خون، پیپ یا پانی اسی وقت وضو توڑتا ہے جب بہے، یعنی نکلنے کی جگہ سے آگے پھیل جائے۔ لہٰذا:
- اگر خون بہہ گیا یا زخم سے آگے پھیل گیا تو وضو ٹوٹ گیا۔
- اگر ایک قطرہ ظاہر ہو کر زخم پر ہی رکا رہا اور نہ پھیلا تو وضو نہیں ٹوٹا، چاہے اسے پونچھ دیا ہو۔
- جو خون پونچھنے یا جذب کرنے کی وجہ سے نہ بہا مگر ورنہ بہہ جاتا، وہ بہنے والا شمار ہوگا اور وضو توڑ دے گا۔
یہی حکم نکسیر، دانے اور زخم کا ہے۔
3Evidence and sources
- الہدایہ، نواقضِ وضو کا بیان
- رد المحتار، کتاب الطہارۃ
- بہارِ شریعت، وضو توڑنے والی چیزوں کا بیان
Arabic texts, translations and how the ruling was derived
الوضوء من كل دم سائل
مفہوم: ہر بہنے والے خون سے وضو لازم ہے۔
احناف ان روایات پر عمل کرتے ہیں جو وضو ٹوٹنے کو بہنے والے خون سے جوڑتی ہیں۔ جو خون اپنی جگہ سے نہ ہٹے وہ شرعی طور پر "نکلا" نہیں، اس لیے وضو نہیں توڑتا۔
وَاللهُ أَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُهُ أَعْلَمُ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ