کیا قرآن چھونے یا پڑھنے کے لیے وضو ضروری ہے؟
سوال، ذاتی تفصیلات حذف کر کےکیا بغیر وضو قرآن مجید کو چھو یا اس کی تلاوت کر سکتے ہیں؟مزید
یہ نمونے کا جواب ہے جو سائٹ کا طریقۂ کار دکھانے کے لیے لکھا گیا ہے۔ یہ فقہ حنفی کی معروف کتب کے مطابق ہے، مگر ابھی کسی مفتی صاحب نے اس پر نظرثانی یا دستخط نہیں کیے، اس لیے یہ فتویٰ نہیں۔ اصل جواب کے لیے سوال پوچھیں۔ مفتی صاحب سے پوچھیں
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِكِ الْوَهَّابِ اَللّٰهُمَّ هِدَايَةَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
1مختصر جواب
قرآن کو چھونے کے لیے وضو ضروری ہے۔ زبانی تلاوت بغیر وضو جائز ہے۔ جنبی، اور حیض یا نفاس والی عورت نہ قرآن کو چھو سکتے ہیں نہ اس کی تلاوت کر سکتے ہیں۔
2تفصیلی جواب
اس کی تین صورتیں ہیں:
- بے وضو: قرآن مجید (مصحف) یا کاغذ پر لکھی کسی آیت کو چھونا جائز نہیں، البتہ زبانی تلاوت جائز ہے، یا الگ کپڑے کے ذریعے ورق پلٹ کر پڑھنا۔
- جنابت، حیض یا نفاس میں: نہ قرآن کو چھو سکتے ہیں نہ تلاوت کر سکتے ہیں، چاہے زبانی ہو۔ درود، ذکر اور دعائیں پڑھ سکتے ہیں، قرآنی دعائیں بھی دعا کی نیت سے۔
- باوضو: چھونا اور تلاوت دونوں جائز ہیں۔
حیض والی معلمہ قرآن پڑھانے کے لیے لفظ لفظ الگ کر کے بتا سکتی ہے، قرآن کی نیت سے تلاوت کیے بغیر۔
3دلائل و حوالہ جات
- قرآن مجید، الواقعہ 56:79
- موطا امام مالک، کتاب القرآن
- بہارِ شریعت، غسل کا بیان
عربی عبارات، ان کا ترجمہ اور حکم اخذ کرنے کی تفصیل
لا يمسه إلا المطهرون
مفہوم: اسے پاک لوگ ہی چھوتے ہیں۔
یہ آیت اور نبی کریم ﷺ کا تحریری حکم کہ "قرآن کو پاک شخص کے سوا کوئی نہ چھوئے" مصحف کو چھونے کے لیے وضو کی بنیاد ہیں۔ پڑھنا چھونے سے ہلکا ہے، اس لیے بے وضو جائز ہے مگر جنابت میں نہیں۔
وَاللهُ أَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُهُ أَعْلَمُ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ