کیا شرمگاہ کو چھونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟
سوال، ذاتی تفصیلات حذف کر کےاگر ہاتھ سے اپنی شرمگاہ کو چھو لیا تو کیا دوبارہ وضو کرنا ہوگا؟مزید
یہ نمونے کا جواب ہے جو سائٹ کا طریقۂ کار دکھانے کے لیے لکھا گیا ہے۔ یہ فقہ حنفی کی معروف کتب کے مطابق ہے، مگر ابھی کسی مفتی صاحب نے اس پر نظرثانی یا دستخط نہیں کیے، اس لیے یہ فتویٰ نہیں۔ اصل جواب کے لیے سوال پوچھیں۔ مفتی صاحب سے پوچھیں
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِكِ الْوَهَّابِ اَللّٰهُمَّ هِدَايَةَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
1مختصر جواب
جی نہیں۔ حنفی مذہب میں اپنی شرمگاہ کو چھونے سے وضو نہیں ٹوٹتا، البتہ اس کے بعد ہاتھ دھو لینا اچھا ہے۔
2تفصیلی جواب
حنفی مذہب میں اپنی شرمگاہ کو چھونے سے، چاہے کپڑے کے ساتھ ہو یا بغیر، وضو نہیں ٹوٹتا۔ یہی حکم عورت کو چھونے کا ہے۔
وضو بدن سے کسی چیز کے نکلنے سے ٹوٹتا ہے، چھونے سے نہیں۔ لہٰذا اگر کچھ نہیں نکلا تو وضو باقی ہے۔ چھونے کے بعد ہاتھ دھونا صفائی اور ادب کی بات ہے، وضو کی شرط نہیں۔
3دلائل و حوالہ جات
- سنن ابی داؤد، کتاب الطہارۃ
- جامع ترمذی، کتاب الطہارۃ
- الہدایہ، نواقضِ وضو کا بیان
عربی عبارات، ان کا ترجمہ اور حکم اخذ کرنے کی تفصیل
إنما هو بضعة منك
مفہوم: وہ تو تمہارے ہی بدن کا ایک حصہ ہے۔
ایک صاحب نے نبی کریم ﷺ سے وضو کے بعد شرمگاہ چھونے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے یہ جواب دیا: یہ بدن کے کسی بھی دوسرے حصے کو چھونے کی طرح ہے۔ احناف اسی روایت پر عمل کرتے ہیں۔
وَاللهُ أَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُهُ أَعْلَمُ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ