English

کیا ایسی چیز بیچ سکتا ہوں جو ابھی میری ملکیت میں نہیں؟ (ڈراپ شپنگ)

سوال، ذاتی تفصیلات حذف کر کےمیں آن لائن آرڈر لیتا ہوں پھر سپلائر سے چیز خریدتا ہوں۔ کیا ملکیت میں آنے سے پہلے بیچ سکتا ہوں؟مزید

IQ-DEMO-49سوال کی زبان: اردو14 ربیع الآخر 1448ھ · 25 ستمبر، 2026

یہ نمونے کا جواب ہے جو سائٹ کا طریقۂ کار دکھانے کے لیے لکھا گیا ہے۔ یہ فقہ حنفی کی معروف کتب کے مطابق ہے، مگر ابھی کسی مفتی صاحب نے اس پر نظرثانی یا دستخط نہیں کیے، اس لیے یہ فتویٰ نہیں۔ اصل جواب کے لیے سوال پوچھیں۔ مفتی صاحب سے پوچھیں

نمونہ · ابھی کسی مفتی صاحب نے نظرثانی نہیں کی
فتویٰ نمبر IQ-DEMO-49اشاعت: 14 ربیع الآخر 1448ھ

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِكِ الْوَهَّابِ اَللّٰهُمَّ هِدَايَةَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

1مختصر جواب

جو مال ابھی ملکیت یا قبضے میں نہیں اسے بیچنا جائز نہیں۔ آپ آرڈر کو وعدے کے طور پر لیں، چیز خرید کر قبضہ کریں، پھر بیچیں۔ یا سپلائر کے وکیل بن کر کمیشن پر، یا خریدار کے وکیل بن کر اجرت پر کام کریں۔

2تفصیلی جواب

بیع اسی وقت درست ہے جب بیچنے والا مال کا مالک ہو اور منقولہ مال پر قبضہ بھی کر چکا ہو، چاہے حقیقی قبضہ ہو یا مال اس کے اختیار میں دے دیا گیا ہو۔ لہٰذا پہلے بیچنا اور بعد میں خریدنا، جیسا کہ عام ڈراپ شپنگ میں ہوتا ہے، درست نہیں۔ یہی کاروبار جائز طریقوں سے:

  1. پہلے وعدہ، پھر بیع: چیز دکھائیں اور گاہک کا آرڈر خریدنے کے وعدے کے طور پر لیں۔ خود چیز خریدیں اور قبضہ کریں (مثلاً آپ یا آپ کے نمائندے کو پہنچا دی جائے)۔ پھر گاہک کو بیع مکمل کریں۔
  2. سپلائر کا وکیل: سپلائر کا مال اس کی طرف سے طے شدہ کمیشن پر بیچیں، اور گاہک کو واضح ہو کہ آپ سپلائر کی طرف سے بیچ رہے ہیں۔
  3. خریدار کا وکیل: گاہک کی طرف سے طے شدہ اجرت پر چیز خرید کر دیں۔

آپ کے معاہدے اور ویب سائٹ میں واضح ہو کہ آپ ان میں سے کون سا طریقہ اختیار کر رہے ہیں۔

3دلائل و حوالہ جات

  1. سنن ابی داؤد، کتاب البیوع
  2. جامع ترمذی، کتاب البیوع
  3. صحیح بخاری، کتاب البیوع
  4. الہدایہ، کتاب البیوع
عربی عبارات، ان کا ترجمہ اور حکم اخذ کرنے کی تفصیل

لا تبع ما ليس عندك

مفہوم: جو چیز تمہارے پاس نہیں اسے نہ بیچو۔

من ابتاع طعاما فلا يبعه حتى يستوفيه

مفہوم: جو غلہ خریدے وہ اسے پورا وصول کرنے سے پہلے نہ بیچے۔

حضرت حکیم بن حزام نے ایسی چیز بیچنے کے بارے میں پوچھا جو ان کے پاس نہ ہو اور بعد میں خرید لیں، تو پہلا جواب ملا۔ احناف نے دوسری حدیث کا حکم تمام منقولہ مال پر لاگو کیا ہے۔

وَاللهُ أَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُهُ أَعْلَمُ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ

4جواب اور تصدیق

Mufti Sample muftiمجیب · جواب دینے والے مفتی
Mufti Sample senior muftiمصدق · سینئر مفتی کی تصدیق
ISLAMIC QUERY · DARUL IFTA · HANAFI AHL-E-SUNNAT ·IQ-DEMO-4914 Rabiʿ al-Thani 1448TASDEEQ