کیا ایسی چیز بیچ سکتا ہوں جو ابھی میری ملکیت میں نہیں؟ (ڈراپ شپنگ)
The question as asked, details removedمیں آن لائن آرڈر لیتا ہوں پھر سپلائر سے چیز خریدتا ہوں۔ کیا ملکیت میں آنے سے پہلے بیچ سکتا ہوں؟More
This is a sample answer written to show how the site works. It follows the standard Hanafi books, but no mufti has reviewed or signed it yet, so it is not a fatwa. For a real answer, ask a question. Ask a mufti
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِكِ الْوَهَّابِ اَللّٰهُمَّ هِدَايَةَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
1Short answer
جو مال ابھی ملکیت یا قبضے میں نہیں اسے بیچنا جائز نہیں۔ آپ آرڈر کو وعدے کے طور پر لیں، چیز خرید کر قبضہ کریں، پھر بیچیں۔ یا سپلائر کے وکیل بن کر کمیشن پر، یا خریدار کے وکیل بن کر اجرت پر کام کریں۔
2Detailed answer
بیع اسی وقت درست ہے جب بیچنے والا مال کا مالک ہو اور منقولہ مال پر قبضہ بھی کر چکا ہو، چاہے حقیقی قبضہ ہو یا مال اس کے اختیار میں دے دیا گیا ہو۔ لہٰذا پہلے بیچنا اور بعد میں خریدنا، جیسا کہ عام ڈراپ شپنگ میں ہوتا ہے، درست نہیں۔ یہی کاروبار جائز طریقوں سے:
- پہلے وعدہ، پھر بیع: چیز دکھائیں اور گاہک کا آرڈر خریدنے کے وعدے کے طور پر لیں۔ خود چیز خریدیں اور قبضہ کریں (مثلاً آپ یا آپ کے نمائندے کو پہنچا دی جائے)۔ پھر گاہک کو بیع مکمل کریں۔
- سپلائر کا وکیل: سپلائر کا مال اس کی طرف سے طے شدہ کمیشن پر بیچیں، اور گاہک کو واضح ہو کہ آپ سپلائر کی طرف سے بیچ رہے ہیں۔
- خریدار کا وکیل: گاہک کی طرف سے طے شدہ اجرت پر چیز خرید کر دیں۔
آپ کے معاہدے اور ویب سائٹ میں واضح ہو کہ آپ ان میں سے کون سا طریقہ اختیار کر رہے ہیں۔
3Evidence and sources
- سنن ابی داؤد، کتاب البیوع
- جامع ترمذی، کتاب البیوع
- صحیح بخاری، کتاب البیوع
- الہدایہ، کتاب البیوع
Arabic texts, translations and how the ruling was derived
لا تبع ما ليس عندك
مفہوم: جو چیز تمہارے پاس نہیں اسے نہ بیچو۔
من ابتاع طعاما فلا يبعه حتى يستوفيه
مفہوم: جو غلہ خریدے وہ اسے پورا وصول کرنے سے پہلے نہ بیچے۔
حضرت حکیم بن حزام نے ایسی چیز بیچنے کے بارے میں پوچھا جو ان کے پاس نہ ہو اور بعد میں خرید لیں، تو پہلا جواب ملا۔ احناف نے دوسری حدیث کا حکم تمام منقولہ مال پر لاگو کیا ہے۔
وَاللهُ أَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُهُ أَعْلَمُ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ