کیا قرض پر سود (ربا) حرام ہے؟
سوال، ذاتی تفصیلات حذف کر کےکیا اس شرط پر قرض دینا جائز ہے کہ لینے والا زیادہ واپس کرے؟مزید
یہ نمونے کا جواب ہے جو سائٹ کا طریقۂ کار دکھانے کے لیے لکھا گیا ہے۔ یہ فقہ حنفی کی معروف کتب کے مطابق ہے، مگر ابھی کسی مفتی صاحب نے اس پر نظرثانی یا دستخط نہیں کیے، اس لیے یہ فتویٰ نہیں۔ اصل جواب کے لیے سوال پوچھیں۔ مفتی صاحب سے پوچھیں
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِكِ الْوَهَّابِ اَللّٰهُمَّ هِدَايَةَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
1مختصر جواب
جی نہیں۔ قرض پر کسی بھی زائد رقم یا فائدے کی شرط سود ہے جو حرام ہے۔ لینے والا، دینے والا، لکھنے والا اور گواہ سب گناہ گار ہیں۔ اپنی خوشی سے، بغیر کسی شرط کے، زیادہ واپس کرنا جائز ہے۔
2تفصیلی جواب
قرض اتنا ہی واپس کرنا ہوتا ہے جتنا لیا۔ لہٰذا:
- زائد کی کوئی بھی شرط، مقررہ فیصد، ماہانہ رقم، تحفہ، یا کوئی بھی فائدہ جیسے قرض دار کے گھر یا گاڑی کا مفت استعمال، قرض کو سود بنا دیتا ہے۔
- سود لینا قرض دینے والے کے لیے اور دینا قرض لینے والے کے لیے حرام ہے، اور اس کا معاہدہ لکھنا یا گواہ بننا بھی گناہ ہے۔
- اگر واپسی کے وقت قرض دار اپنی خوشی سے، پہلے کی کسی شرط یا سمجھوتے کے بغیر، کچھ زیادہ دے تو جائز اور اچھا اخلاق ہے۔
- جس نے سود لے لیا ہو وہ توبہ کرے اور جس سے لیا اسے واپس کرے، یا یہ ممکن نہ ہو تو ثواب کی نیت کے بغیر فقیروں کو دے دے۔
اگر کسی کو لگتا ہے کہ وہ حقیقی مجبوری میں سودی قرض لینے پر مجبور ہے تو عمل سے پہلے دار الافتاء کو اپنی پوری صورتِ حال بتائے۔
3دلائل و حوالہ جات
- قرآن مجید، البقرہ 2:275-279
- صحیح مسلم، کتاب المساقاۃ
- صحیح بخاری، کتاب الاستقراض
- بہارِ شریعت، سود کا بیان
عربی عبارات، ان کا ترجمہ اور حکم اخذ کرنے کی تفصیل
وأحل الله البيع وحرم الربا
مفہوم: اللہ نے تجارت کو حلال کیا اور سود کو حرام۔
لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا وموكله وكاتبه وشاهديه، وقال: هم سواء
مفہوم: رسول اللہ ﷺ نے سود کھانے والے، کھلانے والے، اسے لکھنے والے اور اس کے دونوں گواہوں پر لعنت فرمائی، اور فرمایا: یہ سب برابر ہیں۔
نبی کریم ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ "تم میں بہتر وہ ہیں جو ادائیگی میں بہتر ہوں"، اور آپ نے قرض اس سے بہتر چیز کے ساتھ ادا فرمایا جو لی تھی؛ یہی اپنی خوشی سے زیادہ دینے کے جواز کی بنیاد ہے۔
وَاللهُ أَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُهُ أَعْلَمُ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ