نکاح صحیح ہونے کے لیے کیا ضروری ہے؟
سوال، ذاتی تفصیلات حذف کر کےنکاح صحیح ہونے کی شرائط کیا ہیں اور گواہ کون بن سکتا ہے؟مزید
یہ نمونے کا جواب ہے جو سائٹ کا طریقۂ کار دکھانے کے لیے لکھا گیا ہے۔ یہ فقہ حنفی کی معروف کتب کے مطابق ہے، مگر ابھی کسی مفتی صاحب نے اس پر نظرثانی یا دستخط نہیں کیے، اس لیے یہ فتویٰ نہیں۔ اصل جواب کے لیے سوال پوچھیں۔ مفتی صاحب سے پوچھیں
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِكِ الْوَهَّابِ اَللّٰهُمَّ هِدَايَةَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
1مختصر جواب
نکاح اس وقت صحیح ہے جب دونوں کی رضامندی سے ایک ہی مجلس میں ایجاب و قبول ہو، اور دو گواہ اسے سنیں: دو مسلمان عاقل بالغ مرد، یا ایک مرد اور دو عورتیں۔ بھائی جیسے قریبی رشتہ دار گواہ بن سکتے ہیں۔ مہر ذکر نہ ہو تب بھی لازم ہے۔
2تفصیلی جواب
نکاح صحیح ہونے کے لیے:
- ایجاب و قبول: ایک فریق پیش کش کرے اور دوسرا قبول کرے، واضح الفاظ میں، ایک ہی مجلس میں۔
- رضامندی: بالغ لڑکا اور لڑکی آزادانہ راضی ہوں۔ بالغہ کی اجازت ضروری ہے؛ کنواری سے ولی اجازت لے تو اس کا خاموش رہنا اجازت ہے۔
- دو گواہ جو ایجاب اور قبول دونوں ایک ساتھ سنیں: دو مسلمان مرد، یا ایک مسلمان مرد اور دو مسلمان عورتیں، سب عاقل بالغ۔
- یہ واضح ہو کہ کس کا نکاح کس سے ہو رہا ہے۔
قریبی رشتہ دار، جیسے دولہا یا دلہن کے بھائی، گواہ بن سکتے ہیں، اور امام صاحب بھی اگر انہوں نے ایجاب و قبول سنا۔
مہر بیوی کا حق ہے اور نکاح میں ذکر نہ ہو تب بھی لازم ہے؛ اس صورت میں اس کے خاندان کی عورتوں کا مہرِ مثل ہوگا۔ خطبہ، مجلس اور نکاح کا اعلان سنت ہیں۔
3دلائل و حوالہ جات
- قرآن مجید، البقرہ 2:282
- صحیح بخاری، کتاب النکاح
- الہدایہ، کتاب النکاح
- بہارِ شریعت، نکاح کا بیان
عربی عبارات، ان کا ترجمہ اور حکم اخذ کرنے کی تفصیل
واستشهدوا شهيدين من رجالكم فإن لم يكونا رجلين فرجل وامرأتان
مفہوم: اور اپنے مردوں میں سے دو گواہ بنا لو، اور اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں۔
لا تنكح الأيم حتى تستأمر، ولا تنكح البكر حتى تستأذن
مفہوم: بیوہ یا مطلقہ کا نکاح اس سے مشورہ کیے بغیر نہ کیا جائے، اور کنواری کا نکاح اس کی اجازت کے بغیر نہ کیا جائے۔
فقہاء نے گواہوں کی ترکیب اس آیت سے لی اور اسے نکاح پر لاگو کیا، جس میں نبی کریم ﷺ نے گواہوں کو لازم فرمایا۔ حدیث عورت کی رضامندی کو ضروری قرار دیتی ہے۔
وَاللهُ أَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُهُ أَعْلَمُ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ