اردو

نکاح صحیح ہونے کے لیے کیا ضروری ہے؟

The question as asked, details removedنکاح صحیح ہونے کی شرائط کیا ہیں اور گواہ کون بن سکتا ہے؟More

IQ-DEMO-43Asked in Urdu26 Rabiʿ al-Awwal 1448 · 8 Sept 2026

This is a sample answer written to show how the site works. It follows the standard Hanafi books, but no mufti has reviewed or signed it yet, so it is not a fatwa. For a real answer, ask a question. Ask a mufti

Sample · not yet reviewed by a mufti
Fatwa no. IQ-DEMO-43Published: 26 Rabiʿ al-Awwal 1448

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِكِ الْوَهَّابِ اَللّٰهُمَّ هِدَايَةَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

1Short answer

نکاح اس وقت صحیح ہے جب دونوں کی رضامندی سے ایک ہی مجلس میں ایجاب و قبول ہو، اور دو گواہ اسے سنیں: دو مسلمان عاقل بالغ مرد، یا ایک مرد اور دو عورتیں۔ بھائی جیسے قریبی رشتہ دار گواہ بن سکتے ہیں۔ مہر ذکر نہ ہو تب بھی لازم ہے۔

2Detailed answer

نکاح صحیح ہونے کے لیے:

  1. ایجاب و قبول: ایک فریق پیش کش کرے اور دوسرا قبول کرے، واضح الفاظ میں، ایک ہی مجلس میں۔
  2. رضامندی: بالغ لڑکا اور لڑکی آزادانہ راضی ہوں۔ بالغہ کی اجازت ضروری ہے؛ کنواری سے ولی اجازت لے تو اس کا خاموش رہنا اجازت ہے۔
  3. دو گواہ جو ایجاب اور قبول دونوں ایک ساتھ سنیں: دو مسلمان مرد، یا ایک مسلمان مرد اور دو مسلمان عورتیں، سب عاقل بالغ۔
  4. یہ واضح ہو کہ کس کا نکاح کس سے ہو رہا ہے۔

قریبی رشتہ دار، جیسے دولہا یا دلہن کے بھائی، گواہ بن سکتے ہیں، اور امام صاحب بھی اگر انہوں نے ایجاب و قبول سنا۔

مہر بیوی کا حق ہے اور نکاح میں ذکر نہ ہو تب بھی لازم ہے؛ اس صورت میں اس کے خاندان کی عورتوں کا مہرِ مثل ہوگا۔ خطبہ، مجلس اور نکاح کا اعلان سنت ہیں۔

3Evidence and sources

  1. قرآن مجید، البقرہ 2:282
  2. صحیح بخاری، کتاب النکاح
  3. الہدایہ، کتاب النکاح
  4. بہارِ شریعت، نکاح کا بیان
Arabic texts, translations and how the ruling was derived

واستشهدوا شهيدين من رجالكم فإن لم يكونا رجلين فرجل وامرأتان

مفہوم: اور اپنے مردوں میں سے دو گواہ بنا لو، اور اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں۔

لا تنكح الأيم حتى تستأمر، ولا تنكح البكر حتى تستأذن

مفہوم: بیوہ یا مطلقہ کا نکاح اس سے مشورہ کیے بغیر نہ کیا جائے، اور کنواری کا نکاح اس کی اجازت کے بغیر نہ کیا جائے۔

فقہاء نے گواہوں کی ترکیب اس آیت سے لی اور اسے نکاح پر لاگو کیا، جس میں نبی کریم ﷺ نے گواہوں کو لازم فرمایا۔ حدیث عورت کی رضامندی کو ضروری قرار دیتی ہے۔

وَاللهُ أَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُهُ أَعْلَمُ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ

4Answered and confirmed by

مجیبMufti Sample muftiMujeeb · The answering mufti
مصدقMufti Sample senior muftiMusaddiq · Tasdeeq by the senior mufti
ISLAMIC QUERY · DARUL IFTA · HANAFI AHL-E-SUNNAT ·IQ-DEMO-4326 Rabiʿ al-Awwal 1448TASDEEQ