کیا قے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟
سوال، ذاتی تفصیلات حذف کر کےروزے کی حالت میں مجھے قے ہو گئی۔ کیا میرا روزہ باقی ہے؟مزید
یہ نمونے کا جواب ہے جو سائٹ کا طریقۂ کار دکھانے کے لیے لکھا گیا ہے۔ یہ فقہ حنفی کی معروف کتب کے مطابق ہے، مگر ابھی کسی مفتی صاحب نے اس پر نظرثانی یا دستخط نہیں کیے، اس لیے یہ فتویٰ نہیں۔ اصل جواب کے لیے سوال پوچھیں۔ مفتی صاحب سے پوچھیں
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِكِ الْوَهَّابِ اَللّٰهُمَّ هِدَايَةَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
1مختصر جواب
خود بخود آنے والی قے سے روزہ نہیں ٹوٹتا، چاہے کتنی ہی ہو۔ جان بوجھ کر منہ بھر قے کرنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے، اور ایک قضا ہے، کفارہ نہیں۔
2تفصیلی جواب
اس کی دو صورتیں ہیں:
- قے خود بخود آئی، بغیر ارادے کے: روزہ نہیں ٹوٹا، چاہے منہ بھر ہو یا زیادہ۔ البتہ اگر منہ بھر قے منہ میں واپس آئی اور جان بوجھ کر نگل لی تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔
- جان بوجھ کر قے کی: اگر منہ بھر ہو تو روزہ ٹوٹ گیا اور ایک روزے کی قضا ہے۔ کفارہ نہیں۔ منہ بھر سے کم ہو تو روزہ نہیں ٹوٹا۔
منہ بھر کا مطلب اتنی مقدار ہے جسے بغیر تھوکے منہ میں روکنا آسان نہ ہو۔ بعد میں کلی کر لیں، اور خیال رکھیں کہ پانی حلق میں نہ جائے۔
3دلائل و حوالہ جات
- سنن ابی داؤد، کتاب الصوم
- جامع ترمذی، کتاب الصوم
- بہارِ شریعت، روزہ توڑنے والی چیزوں کا بیان
عربی عبارات، ان کا ترجمہ اور حکم اخذ کرنے کی تفصیل
من ذرعه القيء وهو صائم فليس عليه قضاء، ومن استقاء عمدا فليقض
مفہوم: روزے کی حالت میں جس پر قے غالب آ جائے اس پر قضا نہیں، اور جو جان بوجھ کر قے کرے وہ قضا کرے۔
حدیث خود بخود آنے والی اور جان بوجھ کر کی جانے والی قے میں فرق کرتی ہے۔ منہ بھر کی شرط ائمۂ احناف کی وضاحت سے ہے۔
وَاللهُ أَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُهُ أَعْلَمُ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ