اردو

کیا قے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟

The question as asked, details removedروزے کی حالت میں مجھے قے ہو گئی۔ کیا میرا روزہ باقی ہے؟More

IQ-DEMO-39Asked in English25 Rabiʿ al-Thani 1448 · 6 Oct 2026

This is a sample answer written to show how the site works. It follows the standard Hanafi books, but no mufti has reviewed or signed it yet, so it is not a fatwa. For a real answer, ask a question. Ask a mufti

Sample · not yet reviewed by a mufti
Fatwa no. IQ-DEMO-39Published: 25 Rabiʿ al-Thani 1448

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِكِ الْوَهَّابِ اَللّٰهُمَّ هِدَايَةَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

1Short answer

خود بخود آنے والی قے سے روزہ نہیں ٹوٹتا، چاہے کتنی ہی ہو۔ جان بوجھ کر منہ بھر قے کرنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے، اور ایک قضا ہے، کفارہ نہیں۔

2Detailed answer

اس کی دو صورتیں ہیں:

  1. قے خود بخود آئی، بغیر ارادے کے: روزہ نہیں ٹوٹا، چاہے منہ بھر ہو یا زیادہ۔ البتہ اگر منہ بھر قے منہ میں واپس آئی اور جان بوجھ کر نگل لی تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔
  2. جان بوجھ کر قے کی: اگر منہ بھر ہو تو روزہ ٹوٹ گیا اور ایک روزے کی قضا ہے۔ کفارہ نہیں۔ منہ بھر سے کم ہو تو روزہ نہیں ٹوٹا۔

منہ بھر کا مطلب اتنی مقدار ہے جسے بغیر تھوکے منہ میں روکنا آسان نہ ہو۔ بعد میں کلی کر لیں، اور خیال رکھیں کہ پانی حلق میں نہ جائے۔

3Evidence and sources

  1. سنن ابی داؤد، کتاب الصوم
  2. جامع ترمذی، کتاب الصوم
  3. بہارِ شریعت، روزہ توڑنے والی چیزوں کا بیان
Arabic texts, translations and how the ruling was derived

من ذرعه القيء وهو صائم فليس عليه قضاء، ومن استقاء عمدا فليقض

مفہوم: روزے کی حالت میں جس پر قے غالب آ جائے اس پر قضا نہیں، اور جو جان بوجھ کر قے کرے وہ قضا کرے۔

حدیث خود بخود آنے والی اور جان بوجھ کر کی جانے والی قے میں فرق کرتی ہے۔ منہ بھر کی شرط ائمۂ احناف کی وضاحت سے ہے۔

وَاللهُ أَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُهُ أَعْلَمُ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ

4Answered and confirmed by

مجیبMufti Sample muftiMujeeb · The answering mufti
مصدقMufti Sample senior muftiMusaddiq · Tasdeeq by the senior mufti
ISLAMIC QUERY · DARUL IFTA · HANAFI AHL-E-SUNNAT ·IQ-DEMO-3925 Rabiʿ al-Thani 1448TASDEEQ