رمضان کا روزہ چھوڑنے کی اجازت کس کو ہے؟
سوال، ذاتی تفصیلات حذف کر کےرمضان میں کن لوگوں کو روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے، اور کیا انہیں قضا کرنی ہوگی؟مزید
یہ نمونے کا جواب ہے جو سائٹ کا طریقۂ کار دکھانے کے لیے لکھا گیا ہے۔ یہ فقہ حنفی کی معروف کتب کے مطابق ہے، مگر ابھی کسی مفتی صاحب نے اس پر نظرثانی یا دستخط نہیں کیے، اس لیے یہ فتویٰ نہیں۔ اصل جواب کے لیے سوال پوچھیں۔ مفتی صاحب سے پوچھیں
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِكِ الْوَهَّابِ اَللّٰهُمَّ هِدَايَةَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
1مختصر جواب
مریض، مسافر، اور حاملہ یا دودھ پلانے والی عورت جسے نقصان کا اندیشہ ہو، روزہ چھوڑ کر بعد میں قضا کر سکتے ہیں۔ حیض یا نفاس والی عورت روزہ نہ رکھے اور بعد میں قضا کرے۔ بہت بوڑھا جو روزہ نہ رکھ سکے وہ فدیہ دے۔
2تفصیلی جواب
جو روزہ چھوڑ کر بعد میں قضا کر سکتے ہیں:
- مریض، اگر روزے سے مرض بڑھنے یا دیر سے ٹھیک ہونے کا اندیشہ ہو، کسی قابلِ اعتماد ڈاکٹر یا واضح تجربے کی بنیاد پر۔
- شرعی مسافر (تقریباً 92 کلومیٹر یا زیادہ)۔ اگر روزہ مشکل نہ ہو تو رکھنا بہتر ہے۔
- حاملہ یا دودھ پلانے والی عورت جسے اپنے یا بچے کے نقصان کا اندیشہ ہو۔
جن کے لیے روزہ رکھنا جائز نہیں:
- حیض یا نفاس والی عورت۔ اس کا روزہ نہیں ہوتا؛ چھوٹے ہوئے روزوں کی بعد میں قضا کرے، البتہ چھوٹی نمازوں کی قضا نہیں۔
جو روزے کی جگہ فدیہ دیں:
- بہت بوڑھا یا دائمی مریض جو روزہ نہ رکھ سکے اور آئندہ رکھ سکنے کی امید بھی نہ ہو۔
جسے اجازت ہو وہ بھی روزے کا احترام کرے اور روزہ داروں کے سامنے کھلے عام نہ کھائے۔
3دلائل و حوالہ جات
- قرآن مجید، البقرہ 2:184
- جامع ترمذی، کتاب الصوم
- صحیح مسلم، کتاب الحیض
- بہارِ شریعت، روزہ نہ رکھنے کے اعذار کا بیان
عربی عبارات، ان کا ترجمہ اور حکم اخذ کرنے کی تفصیل
فمن كان منكم مريضا أو على سفر فعدة من أيام أخر وعلى الذين يطيقونه فدية طعام مسكين
مفہوم: تم میں سے جو بیمار ہو یا سفر میں، تو اتنے روزے دوسرے دنوں میں؛ اور جو بڑی مشقت سے ہی روزہ رکھ سکیں ان پر ایک مسکین کا کھانا فدیہ ہے۔
إن الله وضع عن المسافر الصوم وشطر الصلاة، وعن الحامل أو المرضع الصوم
مفہوم: اللہ نے مسافر سے روزہ اور آدھی نماز، اور حاملہ اور دودھ پلانے والی سے روزہ ہٹا دیا ہے۔
سیدہ عائشہ نے حیض کے بارے میں فرمایا کہ "ہمیں روزوں کی قضا کا حکم دیا جاتا تھا اور نمازوں کی قضا کا حکم نہیں دیا جاتا تھا۔"
وَاللهُ أَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُهُ أَعْلَمُ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ