کیا دو نمازیں ایک ساتھ پڑھ سکتے ہیں، جیسے ظہر اور عصر؟
سوال، ذاتی تفصیلات حذف کر کےکام یا سفر میں مصروفیت ہو تو کیا ظہر اور عصر، یا مغرب اور عشاء ایک ساتھ پڑھ سکتا ہوں؟مزید
یہ نمونے کا جواب ہے جو سائٹ کا طریقۂ کار دکھانے کے لیے لکھا گیا ہے۔ یہ فقہ حنفی کی معروف کتب کے مطابق ہے، مگر ابھی کسی مفتی صاحب نے اس پر نظرثانی یا دستخط نہیں کیے، اس لیے یہ فتویٰ نہیں۔ اصل جواب کے لیے سوال پوچھیں۔ مفتی صاحب سے پوچھیں
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِكِ الْوَهَّابِ اَللّٰهُمَّ هِدَايَةَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
1مختصر جواب
حنفی مذہب میں نہیں۔ ہر نماز اپنے وقت میں پڑھنا لازم ہے۔ صرف حج میں عرفات اور مزدلفہ میں استثناء ہے۔ مسافر ظہر اس کے آخری وقت میں اور عصر اس کے اول وقت میں پڑھ سکتا ہے، جو دیکھنے میں جمع لگتا ہے مگر ہر نماز اپنے وقت میں ہوتی ہے۔
2تفصیلی جواب
پانچوں نمازوں کے مقررہ اوقات ہیں؛ وقت سے پہلے نماز نہیں ہوتی، اور بلا عذر وقت کے بعد تک مؤخر کرنا گناہ ہے۔ لہٰذا حنفی مذہب میں:
- گھر یا سفر میں دو نمازوں کو ایک کے وقت میں جمع کرنا جائز نہیں۔
- صرف حج میں استثناء ہے: عرفات میں ظہر اور عصر ظہر کے وقت میں، اور مزدلفہ میں مغرب اور عشاء عشاء کے وقت میں۔
- جائز یہ ہے، خصوصاً سفر میں، کہ ظہر کو اس کے آخری وقت میں اور عصر کو اس کے اول وقت میں ایک کے بعد ایک پڑھ لے۔ ہر نماز اپنے ہی وقت میں رہتی ہے۔
جن روایات میں نبی کریم ﷺ کے سفر میں نمازیں جمع کرنے کا ذکر ہے، احناف انہیں اسی آخری معنی پر محمول کرتے ہیں۔ اگر کام کی وجہ سے نماز کا وقت مشکل ہو تو وقت کے اندر چند منٹ نکالیں؛ اکثر ادارے کہنے پر اجازت دے دیتے ہیں۔
3دلائل و حوالہ جات
- قرآن مجید، النساء 4:103
- صحیح بخاری، کتاب الحج
- صحیح مسلم، کتاب الحج
- الہدایہ، اوقاتِ نماز کا بیان
عربی عبارات، ان کا ترجمہ اور حکم اخذ کرنے کی تفصیل
إن الصلاة كانت على المؤمنين كتابا موقوتا
مفہوم: بے شک نماز مومنوں پر مقررہ وقتوں میں فرض ہے۔
ما رأيت النبي صلى الله عليه وسلم صلى صلاة بغير ميقاتها إلا صلاتين: جمع بين المغرب والعشاء، وصلى الفجر قبل ميقاتها
مفہوم: میں نے نبی کریم ﷺ کو کبھی کوئی نماز اس کے وقت کے علاوہ پڑھتے نہیں دیکھا سوائے دو کے: مغرب اور عشاء کو جمع کیا، اور فجر اس کے معمول کے وقت سے پہلے پڑھی۔
حضرت عبد اللہ بن مسعود حج میں مزدلفہ کا حال بیان کر رہے ہیں۔ وہ ہمیشہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ رہتے تھے، اس لیے ان کا فرمان بتاتا ہے کہ ایک وقت میں جمع صرف وہیں ہوا۔
وَاللهُ أَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُهُ أَعْلَمُ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ