اردو

کیا ویڈیو کال پر نکاح ہو جاتا ہے؟

The question as asked, details removedدولہا بیرونِ ملک ہے۔ کیا گواہوں کو کال پر رکھ کر ویڈیو کال پر نکاح ہو سکتا ہے؟More

IQ-DEMO-56Asked in English24 Rabiʿ al-Awwal 1448 · 6 Sept 2026

This is a sample answer written to show how the site works. It follows the standard Hanafi books, but no mufti has reviewed or signed it yet, so it is not a fatwa. For a real answer, ask a question. Ask a mufti

Sample · not yet reviewed by a mufti
Fatwa no. IQ-DEMO-56Published: 24 Rabiʿ al-Awwal 1448

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِكِ الْوَهَّابِ اَللّٰهُمَّ هِدَايَةَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

1Short answer

جی نہیں۔ حنفی مذہب میں ایجاب و قبول ایک ہی مجلس میں ہونا اور دو موجود گواہوں کا دونوں کو ایک ساتھ سننا ضروری ہے، اس لیے فون یا ویڈیو کال پر نکاح نہیں ہوتا۔ حل یہ ہے کہ غیر موجود فریق کسی کو وکیل بنا دے جو مجلس میں اس کی طرف سے قبول کرے۔

2Detailed answer

نکاح کے لیے ضروری ہے کہ ایجاب اور قبول ایک ہی مجلس میں ہوں، اور دو گواہ موجود ہوں جو دونوں کو سنیں۔ فون یا ویڈیو کال پر دونوں فریق الگ الگ جگہ ہوتے ہیں، اس لیے ایک مجلس نہیں ہوتی اور نکاح درست نہیں۔

درست طریقہ:

  1. غیر موجود فریق (مثلاً بیرونِ ملک دولہا) فون، میسج یا خط کے ذریعے کسی کو نکاح کا وکیل بنا دے: "میں تمہیں وکیل بناتا ہوں کہ فلاں بنتِ فلاں سے اتنے مہر پر میرا نکاح قبول کرو۔"
  2. مجلس میں لڑکی والوں کی طرف سے ایجاب ہو، اور وکیل دولہا کی طرف سے قبول کرے: "میں نے فلاں بن فلاں کے لیے اس کا نکاح قبول کیا۔"
  3. مجلس میں موجود دو گواہ دونوں کو سنیں۔

ویڈیو کال اب بھی چلائی جا سکتی ہے تاکہ بیرونِ ملک گھر والے دیکھ سکیں، مگر نکاح خود مجلس میں وکیل کے ذریعے ہوگا۔

3Evidence and sources

  1. الہدایہ، کتاب النکاح
  2. رد المحتار، کتاب النکاح
  3. بہارِ شریعت، نکاح کا بیان
Arabic texts, translations and how the ruling was derived

ولا ينعقد نكاح المسلمين إلا بحضور شاهدين حرين عاقلين بالغين مسلمين، رجلين أو رجل وامرأتين

مفہوم: مسلمانوں کا نکاح منعقد نہیں ہوتا مگر دو ایسے گواہوں کی موجودگی میں جو آزاد، عاقل، بالغ مسلمان ہوں: دو مرد، یا ایک مرد اور دو عورتیں۔

یہ عبارت عقد کے وقت گواہوں کی موجودگی کو لازم کرتی ہے۔ فقہاء ایجاب و قبول کے ایک مجلس میں ہونے کی شرط بھی لگاتے ہیں، اور وکیل کے ذریعے نکاح کی اجازت دیتے ہیں، اور یہی غیر موجود شخص کے نکاح کا طریقہ ہے۔

وَاللهُ أَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُهُ أَعْلَمُ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ

4Answered and confirmed by

مجیبMufti Sample muftiMujeeb · The answering mufti
مصدقMufti Sample senior muftiMusaddiq · Tasdeeq by the senior mufti
ISLAMIC QUERY · DARUL IFTA · HANAFI AHL-E-SUNNAT ·IQ-DEMO-5624 Rabiʿ al-Awwal 1448TASDEEQ