کیا انجکشن سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟
The question as asked, details removedکیا روزے میں انجکشن، ویکسین یا ڈرپ لگوا سکتے ہیں؟More
This is a sample answer written to show how the site works. It follows the standard Hanafi books, but no mufti has reviewed or signed it yet, so it is not a fatwa. For a real answer, ask a question. Ask a mufti
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِكِ الْوَهَّابِ اَللّٰهُمَّ هِدَايَةَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
1Short answer
جی نہیں۔ پٹھے یا رگ میں لگنے والے انجکشن سے روزہ نہیں ٹوٹتا، کیونکہ دوا بدن کے کسی قدرتی راستے سے داخل نہیں ہوتی۔ طاقت کی ڈرپ یا غیر ضروری انجکشن افطار کے بعد لگوانا بہتر ہے۔
2Detailed answer
روزہ اس چیز سے ٹوٹتا ہے جو کسی قدرتی راستے، جیسے منہ، ناک یا دوسرے راستوں سے بدن کے اندر پہنچے۔ انجکشن جلد کے ذریعے جاتا ہے، ایسے راستے سے نہیں۔ لہٰذا:
- پٹھے، جلد کے نیچے یا رگ میں لگنے والے انجکشن سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔
- انجکشن کے ذریعے لگنے والی ویکسین سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔
- رگ میں لگنے والی ڈرپ سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ البتہ دن میں کسی طبی ضرورت کے بغیر غذائیت یا طاقت کے لیے ڈرپ لگوانا روزے کی روح کے خلاف ہے؛ اسے افطار کے بعد لگوائیں۔
- خون ٹیسٹ کروانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔
انہیلر، ناک کا اسپرے اور جو کچھ نگلا جائے ان کا حکم مختلف ہے اور ان سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔
3Evidence and sources
- صحیح بخاری، کتاب الصوم
- رد المحتار، کتاب الصوم
Arabic texts, translations and how the ruling was derived
ولم ير أنس والحسن وإبراهيم بالكحل للصائم بأسا
مفہوم: حضرت انس، حسن بصری اور ابراہیم نخعی روزہ دار کے سرمہ لگانے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔
آنکھ کا سرمہ جلد اور مسامات کے ذریعے بدن تک پہنچتا ہے، قدرتی راستے سے نہیں، اور اسلاف نے اسے روزہ توڑنے والا شمار نہیں کیا۔ فقہائے احناف نے جلد سے جذب ہونے والے تیل کے بارے میں یہی اصول بیان کیا، اور عصرِ حاضر کے علماء اسے انجکشن پر لاگو کرتے ہیں۔
وَاللهُ أَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُهُ أَعْلَمُ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ