اردو

رمضان کا روزہ جان بوجھ کر توڑنے کا حکم (کفارہ)

The question as asked, details removedرمضان کے روزے میں جان بوجھ کر کھانے پینے کی کیا سزا ہے؟More

IQ-DEMO-33Asked in Urdu7 Rabiʿ al-Thani 1448 · 18 Sept 2026

This is a sample answer written to show how the site works. It follows the standard Hanafi books, but no mufti has reviewed or signed it yet, so it is not a fatwa. For a real answer, ask a question. Ask a mufti

Sample · not yet reviewed by a mufti
Fatwa no. IQ-DEMO-33Published: 7 Rabiʿ al-Thani 1448

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِكِ الْوَهَّابِ اَللّٰهُمَّ هِدَايَةَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

1Short answer

رمضان کے روزے میں بغیر شرعی عذر جان بوجھ کر کھانے، پینے یا ہمبستری کرنے سے قضا اور کفارہ دونوں لازم ہیں۔ کفارہ لگاتار 60 روزے ہیں؛ جو روزے نہ رکھ سکے وہ 60 مسکینوں کو کھانا کھلائے۔ روزہ ٹوٹنے کی دوسری صورتوں میں صرف قضا ہے۔

2Detailed answer

اگر کسی نے رات سے رمضان کے روزے کی نیت کی، پھر دن میں بغیر شرعی عذر جان بوجھ کر کھایا، پیا یا ہمبستری کی:

  1. اس روزے کی قضا لازم ہے۔
  2. کفارہ بھی لازم ہے: لگاتار 60 روزے رکھے۔ اگر بیچ میں ایک دن چھوٹ گیا تو دوبارہ سے 60 شروع کرے گا۔ عورت کے حیض سے تسلسل نہیں ٹوٹتا۔
  3. جو بیماری یا بڑھاپے کی وجہ سے واقعی روزے نہ رکھ سکے، وہ 60 مسکینوں کو دو وقت پیٹ بھر کر کھانا کھلائے، یا ہر ایک کو صدقۂ فطر کی مقدار دے۔

دوسری صورتوں میں روزہ ٹوٹے تو صرف قضا ہے، کفارہ نہیں: کلی کرتے ہوئے غلطی سے پانی حلق میں چلا جانا، رات سمجھ کر صبحِ صادق کے بعد کھا لینا، جان بوجھ کر منہ بھر قے کرنا، یا ایسی چیز نگل لینا جو غذا یا دوا نہ ہو۔

سچی توبہ بھی ضروری ہے، کیونکہ رمضان کا روزہ بلا عذر توڑنا کبیرہ گناہ ہے۔

3Evidence and sources

  1. صحیح بخاری، کتاب الصوم
  2. صحیح مسلم، کتاب الصیام
  3. بہارِ شریعت، قضا اور کفارے کا بیان
Arabic texts, translations and how the ruling was derived

هل تجد رقبة تعتقها؟ قال: لا. قال: فهل تستطيع أن تصوم شهرين متتابعين؟ قال: لا. قال: فهل تجد إطعام ستين مسكينا؟

مفہوم: "کیا تم آزاد کرنے کے لیے غلام پاتے ہو؟" اس نے کہا: نہیں۔ فرمایا: "کیا لگاتار دو مہینے روزے رکھ سکتے ہو؟" کہا: نہیں۔ فرمایا: "کیا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتے ہو؟"

ایک صاحب نبی کریم ﷺ کے پاس آئے کہ انہوں نے رمضان کے دن اپنی بیوی سے صحبت کر لی، تو انہیں کفارے کی یہ ترتیب بتائی گئی۔ احناف جان بوجھ کر کھانے پینے پر بھی یہی کفارہ لازم کرتے ہیں، کیونکہ تینوں روزے کو ایک ہی طرح ختم کرتے ہیں۔

وَاللهُ أَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُهُ أَعْلَمُ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ

4Answered and confirmed by

مجیبMufti Sample muftiMujeeb · The answering mufti
مصدقMufti Sample senior muftiMusaddiq · Tasdeeq by the senior mufti
ISLAMIC QUERY · DARUL IFTA · HANAFI AHL-E-SUNNAT ·IQ-DEMO-337 Rabiʿ al-Thani 1448TASDEEQ