کیا زکوٰۃ پیشگی یا ماہانہ قسطوں میں دی جا سکتی ہے؟
The question as asked, details removedپوری زکوٰۃ ایک ساتھ دینے کے بجائے کیا زکوٰۃ کی تاریخ سے پہلے ہر مہینے کچھ دے سکتا ہوں؟More
This is a sample answer written to show how the site works. It follows the standard Hanafi books, but no mufti has reviewed or signed it yet, so it is not a fatwa. For a real answer, ask a question. Ask a mufti
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِكِ الْوَهَّابِ اَللّٰهُمَّ هِدَايَةَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
1Short answer
جی ہاں۔ جو پہلے سے صاحبِ نصاب ہو وہ سال پورا ہونے سے پہلے زکوٰۃ دے سکتا ہے، ایک ساتھ یا قسطوں میں۔ سال کے آخر میں حساب کرے: کمی ہو تو باقی ادا کرے، اور زیادہ ہو تو اگلے سال میں شمار ہوگی۔
2Detailed answer
پیشگی زکوٰۃ دینا درست ہے، ایک شرط کے ساتھ: دیتے وقت آپ نصاب کے مالک ہوں۔ لہٰذا:
- سال بھر ہر مہینے زکوٰۃ کی نیت سے ایک مقررہ رقم دے سکتے ہیں۔
- زکوٰۃ کی تاریخ پر اپنی تمام ملکیت کی زکوٰۃ کا حساب کریں۔
- اگر دی ہوئی رقم کم ہو تو باقی ادا کریں۔ زیادہ ہو تو زائد رقم اگلے سال کی پیشگی زکوٰۃ شمار ہوگی، یا چاہیں تو نفلی صدقہ۔
جو ابھی صاحبِ نصاب نہیں وہ پیشگی زکوٰۃ نہیں دے سکتا؛ اس کا دیا ہوا نفلی صدقہ ہوگا۔ نیت دیتے وقت، یا زکوٰۃ کے لیے رقم الگ کرتے وقت ہونی چاہیے۔
3Evidence and sources
- سنن ابی داؤد، کتاب الزکاۃ
- جامع ترمذی، کتاب الزکاۃ
- الہدایہ، کتاب الزکاۃ
Arabic texts, translations and how the ruling was derived
أن العباس سأل النبي صلى الله عليه وسلم في تعجيل صدقته قبل أن تحل، فرخص له في ذلك
مفہوم: حضرت عباس نے نبی کریم ﷺ سے زکوٰۃ کا وقت آنے سے پہلے ادا کرنے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے انہیں اجازت دے دی۔
حدیث سال پورا ہونے سے پہلے ادائیگی کی اجازت دیتی ہے۔ چونکہ زکوٰۃ کا سبب نصاب کی ملکیت ہے، اس لیے فقہاء نے شرط لگائی کہ ادائیگی کے وقت نصاب ملکیت میں ہو۔
وَاللهُ أَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُهُ أَعْلَمُ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ