صدقۂ فطر: کس پر، کتنا اور کب؟
The question as asked, details removedفطرہ کس پر واجب ہے، کتنا ہے، اور کب تک دینا ضروری ہے؟More
This is a sample answer written to show how the site works. It follows the standard Hanafi books, but no mufti has reviewed or signed it yet, so it is not a fatwa. For a real answer, ask a question. Ask a mufti
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِكِ الْوَهَّابِ اَللّٰهُمَّ هِدَايَةَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
1Short answer
صدقۂ فطر ہر اس مسلمان پر واجب ہے جو عید الفطر کی صبح حاجتِ اصلیہ سے زائد نصاب کا مالک ہو، چاہے سال نہ گزرا ہو۔ فی کس آدھا صاع گندم (تقریباً 2 کلو) یا اس کی قیمت ہے، اپنی اور نابالغ اولاد کی طرف سے، اور بہتر یہ ہے کہ نمازِ عید سے پہلے دیا جائے۔
2Detailed answer
صدقۂ فطر عید الفطر کے دن صبحِ صادق ہوتے ہی اس مسلمان پر واجب ہو جاتا ہے جو حاجتِ اصلیہ سے زائد نصاب کا مالک ہو۔ زکوٰۃ کے برخلاف اس میں سال گزرنا شرط نہیں، اور صرف نقدی اور سونا ہی نہیں بلکہ ضرورت سے زائد ہر چیز نصاب میں شمار ہوتی ہے۔
فی کس مقدار آدھا صاع گندم (تقریباً 2 کلو)، یا ایک صاع کھجور، جَو یا کشمش (تقریباً 4 کلو)، یا ان کی قیمت ہے۔ دار الافتاء ہر رمضان مقامی کرنسی میں رقم کا اعلان کرتا ہے۔
- اپنی طرف سے اور اپنی اس نابالغ اولاد کی طرف سے ادا کرے جس کا اپنا مال نہ ہو۔
- بیوی اور بالغ اولاد کی طرف سے واجب نہیں، البتہ ان کی اجازت سے ادا کر سکتا ہے۔
- بہتر وقت نمازِ عید سے پہلے ہے؛ رمضان میں پہلے ادا کرنا بھی درست ہے۔
- عید کے دن ادا نہ کیا تو ساقط نہیں ہوتا؛ ادا کرنے تک ذمے رہتا ہے۔
- یہ انہی لوگوں کو دیا جائے جنہیں زکوٰۃ دی جا سکتی ہے۔
3Evidence and sources
- صحیح بخاری، کتاب الزکاۃ، حدیث 1503
- الہدایہ، صدقۂ فطر کا بیان
- بہارِ شریعت، صدقۂ فطر کا بیان
Arabic texts, translations and how the ruling was derived
فرض رسول الله صلى الله عليه وسلم زكاة الفطر صاعا من تمر أو صاعا من شعير على العبد والحر والذكر والأنثى والصغير والكبير من المسلمين، وأمر بها أن تؤدى قبل خروج الناس إلى الصلاة
مفہوم: رسول اللہ ﷺ نے صدقۂ فطر لازم فرمایا: ایک صاع کھجور یا ایک صاع جَو، ہر مسلمان پر، غلام ہو یا آزاد، مرد ہو یا عورت، چھوٹا ہو یا بڑا؛ اور حکم دیا کہ لوگوں کے نماز کے لیے نکلنے سے پہلے ادا کیا جائے۔
کھجور یا جَو کے پورے صاع کی جگہ گندم کا آدھا صاع صحابۂ کرام سے منقول ہے، اور حنفی مذہب اسی پر ہے۔
وَاللهُ أَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُهُ أَعْلَمُ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ