زکوٰۃ کس پر فرض ہے اور نصاب کیا ہے؟
The question as asked, details removedکتنا مال ہو تو کسی پر زکوٰۃ فرض ہوتی ہے؟More
This is a sample answer written to show how the site works. It follows the standard Hanafi books, but no mufti has reviewed or signed it yet, so it is not a fatwa. For a real answer, ask a question. Ask a mufti
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِكِ الْوَهَّابِ اَللّٰهُمَّ هِدَايَةَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
1Short answer
زکوٰۃ اس عاقل بالغ مسلمان پر فرض ہے جو حاجتِ اصلیہ اور قرض سے زائد نصاب کا مالک ہو اور اس پر قمری سال گزر جائے۔ نصاب 612.36 گرام چاندی یا 87.48 گرام سونا ہے؛ نقدی، بچت یا ملے جلے مال میں چاندی کا نصاب معتبر ہے۔
2Detailed answer
زکوٰۃ اس وقت فرض ہوتی ہے جب یہ سب باتیں پائی جائیں:
- آدمی مسلمان، بالغ اور عاقل ہو۔
- نصاب کا مالک ہو: 612.36 گرام (ساڑھے باون تولہ) چاندی، یا 87.48 گرام (ساڑھے سات تولہ) سونا، یا اتنی نقدی، بچت یا مالِ تجارت جو چاندی کے نصاب کے برابر ہو۔
- یہ مال حاجتِ اصلیہ سے زائد ہو اور قرض اسے ختم نہ کرتا ہو۔
- نصاب کی ملکیت پر ایک پورا قمری (ہجری) سال گزر جائے۔
سال اس دن سے شروع ہوتا ہے جس دن پہلی بار نصاب کا مالک بنا۔ اگر سال کے دوران مال کم زیادہ ہوتا رہا مگر شروع اور آخر میں نصاب موجود تھا تو آخر میں جتنا مال ہے اس پر زکوٰۃ ہے۔ چونکہ چاندی کا نصاب کم ہے، اس لیے جس کے پاس ضرورت سے زائد بچت ہو اس پر عموماً زکوٰۃ فرض ہوتی ہے، چاہے سونا نہ ہو۔
3Evidence and sources
- سنن ابی داؤد، کتاب الزکاۃ
- الہدایہ، کتاب الزکاۃ
- بہارِ شریعت، زکوٰۃ کا بیان
Arabic texts, translations and how the ruling was derived
فإذا كانت لك مائتا درهم وحال عليها الحول ففيها خمسة دراهم، وليس عليك شيء يعني في الذهب حتى يكون لك عشرون دينارا
مفہوم: جب تمہارے پاس دو سو درہم ہوں اور ان پر سال گزر جائے تو ان میں پانچ درہم ہیں، اور سونے میں تم پر کچھ نہیں یہاں تک کہ بیس دینار ہوں۔
حدیث چاندی کا نصاب دو سو درہم اور سونے کا بیس دینار مقرر کرتی ہے اور سال گزرنے کی شرط لگاتی ہے۔ ہمارے علماء نے انہیں ساڑھے باون تولہ (612.36 گرام) چاندی اور ساڑھے سات تولہ (87.48 گرام) سونا بیان کیا ہے۔
وَاللهُ أَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُهُ أَعْلَمُ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ