کن اوقات میں نماز جائز نہیں؟
The question as asked, details removedکیا دن میں کچھ اوقات ایسے ہیں جن میں نماز نہیں پڑھنی چاہیے؟More
This is a sample answer written to show how the site works. It follows the standard Hanafi books, but no mufti has reviewed or signed it yet, so it is not a fatwa. For a real answer, ask a question. Ask a mufti
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِكِ الْوَهَّابِ اَللّٰهُمَّ هِدَايَةَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
1Short answer
تین اوقات میں کوئی نماز جائز نہیں: سورج نکلتے وقت (طلوع کے بعد تقریباً 20 منٹ تک)، عین دوپہر (زوال)، اور سورج ڈوبتے وقت، سوائے اسی دن کی عصر کے اگر ابھی نہ پڑھی ہو۔ فجر کے بعد طلوع تک اور عصر کے بعد غروب تک نفل مکروہ ہیں، قضا جائز ہے۔
2Detailed answer
ان اوقات کی دو قسمیں ہیں:
- تین اوقات جن میں کوئی نماز جائز نہیں، فرض ہو، واجب، نفل یا قضا:
- سورج نکلنا شروع ہونے سے اس کے اچھی طرح بلند ہونے تک، تقریباً 20 منٹ۔
- زوال، جب سورج سب سے اونچا ہو، یہاں تک کہ ڈھلنا شروع ہو۔
- غروب سے پہلے سورج زرد ہونے سے لے کر ڈوب جانے تک۔
- دو اوقات جن میں نفل مکروہ ہیں، مگر قضا، سجدۂ تلاوت اور نمازِ جنازہ جائز ہیں:
- فجر پڑھنے کے بعد طلوعِ آفتاب تک۔
- عصر پڑھنے کے بعد سورج زرد ہونے تک۔
پہلی قسم میں ایک استثناء ہے: اگر اسی دن کی عصر ابھی نہیں پڑھی تو غروب کے وقت بھی پڑھنا لازم ہے، اگرچہ اتنی تاخیر گناہ ہے۔
فجر کی سنتیں اگر رہ جائیں تو فرض کے بعد نہیں پڑھی جاتیں؛ بہتر یہ ہے کہ طلوع کے بعد زوال سے پہلے پڑھ لی جائیں۔
3Evidence and sources
- صحیح مسلم، کتاب صلاۃ المسافرین
- صحیح بخاری، کتاب مواقیت الصلاۃ
- بہارِ شریعت، مکروہ اوقات کا بیان
Arabic texts, translations and how the ruling was derived
ثلاث ساعات كان رسول الله صلى الله عليه وسلم ينهانا أن نصلي فيهن أو أن نقبر فيهن موتانا: حين تطلع الشمس بازغة حتى ترتفع، وحين يقوم قائم الظهيرة حتى تميل الشمس، وحين تضيف الشمس للغروب حتى تغرب
مفہوم: تین اوقات میں رسول اللہ ﷺ ہمیں نماز پڑھنے اور اپنے مردوں کو دفن کرنے سے منع فرماتے تھے: جب سورج نکل رہا ہو یہاں تک کہ بلند ہو جائے، جب دوپہر کو سورج عین سر پر ہو یہاں تک کہ ڈھل جائے، اور جب سورج ڈوبنے کو ہو یہاں تک کہ ڈوب جائے۔
نبی کریم ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ فجر کے بعد طلوع تک اور عصر کے بعد غروب تک کوئی نماز نہیں۔ فقہاء اس دوسری روایت کو صرف نوافل پر لاگو کرتے ہیں۔
وَاللهُ أَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُهُ أَعْلَمُ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ