پانچوں نمازوں میں کتنی رکعتیں ہیں؟
The question as asked, details removedفجر، ظہر، عصر، مغرب اور عشاء میں کتنے فرض اور کتنی سنتیں ہیں؟More
This is a sample answer written to show how the site works. It follows the standard Hanafi books, but no mufti has reviewed or signed it yet, so it is not a fatwa. For a real answer, ask a question. Ask a mufti
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِكِ الْوَهَّابِ اَللّٰهُمَّ هِدَايَةَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
1Short answer
فرض: فجر 2، ظہر 4، عصر 4، مغرب 3، عشاء 4، اور عشاء کے بعد 3 وتر (واجب)۔ سنتِ مؤکدہ: فجر سے پہلے 2، ظہر سے پہلے 4 اور بعد 2، مغرب کے بعد 2، عشاء کے بعد 2، یعنی روزانہ بارہ رکعتیں۔
2Detailed answer
ہر نماز کی رکعتیں:
- فجر: 2 سنتِ مؤکدہ، پھر 2 فرض۔
- ظہر: 4 سنتِ مؤکدہ، 4 فرض، پھر 2 سنتِ مؤکدہ۔
- عصر: 4 سنتِ غیر مؤکدہ، پھر 4 فرض۔
- مغرب: 3 فرض، پھر 2 سنتِ مؤکدہ۔
- عشاء: 4 سنتِ غیر مؤکدہ، 4 فرض، 2 سنتِ مؤکدہ، پھر 3 وتر جو واجب ہیں۔
فرض یا وتر چھوڑنا گناہ ہے اور ان کی قضا لازم ہے۔ سنتِ مؤکدہ کو عادتاً چھوڑنا قابلِ ملامت ہے۔ غیر مؤکدہ سنتوں میں بڑا ثواب ہے مگر چھوڑنے پر ملامت نہیں۔ نوافل، جیسے ظہر کی سنتوں کے بعد یا وتر کے بعد دو رکعت، اضافی ہیں۔
3Evidence and sources
- صحیح مسلم، کتاب صلاۃ المسافرین، حدیث 728
- جامع ترمذی، کتاب الصلاۃ
- بہارِ شریعت، سنن و نوافل کا بیان
Arabic texts, translations and how the ruling was derived
من صلى اثنتي عشرة ركعة في يوم وليلة بني له بهن بيت في الجنة
مفہوم: جو دن رات میں بارہ رکعتیں پڑھے، ان کی بدولت اس کے لیے جنت میں گھر بنایا جاتا ہے۔
فرض رکعتوں کی تعداد نبی کریم ﷺ سے امت کے مسلسل عمل کے ذریعے ہم تک پہنچی ہے۔ اس حدیث کی بارہ رکعتیں سنتِ مؤکدہ ہیں؛ ترمذی کی روایت میں ان کی تفصیل ہے: ظہر سے پہلے چار اور بعد دو، مغرب کے بعد دو، عشاء کے بعد دو، اور فجر سے پہلے دو۔
وَاللهُ أَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُهُ أَعْلَمُ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ