کیا میلاد النبی ﷺ منانا جائز ہے؟
The question as asked, details removedکیا نبی کریم ﷺ کی ولادت کی خوشی میں محفلِ میلاد منعقد کرنا جائز ہے؟More
This is a sample answer written to show how the site works. It follows the standard Hanafi books, but no mufti has reviewed or signed it yet, so it is not a fatwa. For a real answer, ask a question. Ask a mufti
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِكِ الْوَهَّابِ اَللّٰهُمَّ هِدَايَةَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
1Short answer
جی ہاں۔ نبی کریم ﷺ کی ولادت اور سیرت کے ذکر کے لیے جمع ہونا، تلاوت، نعت، درود اور کھانا کھلانا جائز اور باعثِ ثواب ہے، بشرطیکہ اسے شریعت کی منع کردہ چیزوں سے پاک رکھا جائے۔
2Detailed answer
میلاد کا مطلب نبی کریم ﷺ کی ولادتِ مبارکہ کا ذکر اور اس پر خوشی اور شکر کا اظہار ہے: قرآن کی تلاوت، آپ کی سیرت اور اوصاف کا بیان، نعت اور درود پڑھنا، اور کھانا یا صدقہ تقسیم کرنا۔ علمائے اہلسنت کے نزدیک یہ جائز اور مستحسن ہے۔
اس کے سب کام اپنی جگہ نیک ہیں۔ البتہ ان چیزوں سے بچنا ضروری ہے جو ہر وقت ممنوع ہیں، جیسے آلاتِ موسیقی، غیر محرم مردوں اور عورتوں کا اختلاط، فضول خرچی، یا محفل کی وجہ سے فرض نماز کا چھوٹ جانا۔
3Evidence and sources
- قرآن مجید، یونس 10:58
- قرآن مجید، الانبیاء 21:107
- صحیح مسلم، کتاب الصیام، حدیث 1162
Arabic texts, translations and how the ruling was derived
قل بفضل الله وبرحمته فبذلك فليفرحوا
مفہوم: فرما دیجیے: اللہ کے فضل اور اس کی رحمت پر، اسی پر چاہیے کہ خوشی منائیں۔
نبی کریم ﷺ اللہ کی سب سے بڑی رحمت ہیں، لہٰذا آپ کی تشریف آوری پر خوشی اس آیت کے تحت آتی ہے۔ خود حضور ﷺ نے اپنی ولادت کے دن کی تعظیم فرمائی: پیر کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: "اسی دن میری ولادت ہوئی۔"
وَاللهُ أَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُهُ أَعْلَمُ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ