کیا موبائل پر بغیر وضو قرآن پڑھ سکتے ہیں؟
سوال، ذاتی تفصیلات حذف کر کےکیا بغیر وضو موبائل ایپ سے قرآن پڑھنا اور اسکرین کو چھونا جائز ہے؟مزید
یہ نمونے کا جواب ہے جو سائٹ کا طریقۂ کار دکھانے کے لیے لکھا گیا ہے۔ یہ فقہ حنفی کی معروف کتب کے مطابق ہے، مگر ابھی کسی مفتی صاحب نے اس پر نظرثانی یا دستخط نہیں کیے، اس لیے یہ فتویٰ نہیں۔ اصل جواب کے لیے سوال پوچھیں۔ مفتی صاحب سے پوچھیں
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِكِ الْوَهَّابِ اَللّٰهُمَّ هِدَايَةَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
1مختصر جواب
بغیر وضو اسکرین سے پڑھنا جائز ہے، بشرطیکہ اسکرین کے اس حصے کو نہ چھوئیں جہاں آیات نظر آ رہی ہوں۔ فون کے باقی حصے کو چھونا درست ہے۔ جنابت یا حیض میں تلاوت بالکل جائز نہیں۔
2تفصیلی جواب
جب اسکرین پر قرآن کھلا ہو تو چھونے کے معاملے میں اسکرین لکھے ہوئے ورق کے حکم میں ہے۔ لہٰذا:
- بغیر وضو: اسکرین کو دیکھ کر پڑھ اور تلاوت کر سکتے ہیں، مگر اسکرین کے جس حصے پر آیات ہوں اسے نہ چھوئیں۔ خالی کنارے یا فون کے فریم کو چھو کر اسکرول کریں، یا اسٹائلس استعمال کریں۔
- فون کی باڈی، کور، اور جب قرآن اسکرین پر نہ ہو تو اسکرین کو بغیر وضو چھونا جائز ہے۔
- جنابت، حیض یا نفاس میں فون سے بھی تلاوت جائز نہیں؛ تلاوت سننا جائز ہے۔
- جس فون میں قرآن ایپ ہو اسے بیت الخلاء لے جانا جائز ہے اگر اسکرین پر قرآن کھلا نہ ہو؛ بہتر ہے کہ جیب میں رہے۔
3دلائل و حوالہ جات
- قرآن مجید، الواقعہ 56:79
- موطا امام مالک، کتاب القرآن
- بہارِ شریعت، غسل کا بیان
عربی عبارات، ان کا ترجمہ اور حکم اخذ کرنے کی تفصیل
لا يمسه إلا المطهرون
مفہوم: اسے پاک لوگ ہی چھوتے ہیں۔
یہ آیت اور حدیث "قرآن کو پاک شخص کے سوا کوئی نہ چھوئے" لکھے ہوئے قرآن کو چھونے کے لیے طہارت لازم کرتی ہیں۔ عصرِ حاضر کے علمائے اہلسنت آیات دکھانے والے شیشے کے بارے میں احتیاط کرتے ہیں، کیونکہ وہی متن ظاہر ہونے کی جگہ ہے، جبکہ چھوئے بغیر پڑھنا زبانی تلاوت کے حکم میں ہے۔
وَاللهُ أَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُهُ أَعْلَمُ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ