کیا الٹے ہاتھ سے کھانا پینا جائز ہے؟
سوال، ذاتی تفصیلات حذف کر کےکیا بائیں ہاتھ سے کھانا پینا گناہ ہے یا صرف ناپسندیدہ؟مزید
یہ نمونے کا جواب ہے جو سائٹ کا طریقۂ کار دکھانے کے لیے لکھا گیا ہے۔ یہ فقہ حنفی کی معروف کتب کے مطابق ہے، مگر ابھی کسی مفتی صاحب نے اس پر نظرثانی یا دستخط نہیں کیے، اس لیے یہ فتویٰ نہیں۔ اصل جواب کے لیے سوال پوچھیں۔ مفتی صاحب سے پوچھیں
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِكِ الْوَهَّابِ اَللّٰهُمَّ هِدَايَةَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
1مختصر جواب
بغیر عذر بائیں ہاتھ سے کھانا پینا مکروہ اور خلافِ سنت ہے، اس سے بچنا چاہیے۔ اگر دایاں ہاتھ زخمی ہو یا استعمال نہ ہو سکے تو بایاں ہاتھ استعمال کر سکتے ہیں۔
2تفصیلی جواب
سنت یہ ہے کہ دائیں ہاتھ سے کھایا پیا جائے۔ لہٰذا:
- بغیر عذر بائیں ہاتھ سے کھانا پینا مکروہ ہے۔ نبی کریم ﷺ نے اس سے منع فرمایا اور بتایا کہ شیطان بائیں ہاتھ سے کھاتا پیتا ہے۔
- عذر ہو، جیسے دائیں ہاتھ میں چوٹ یا معذوری، تو بایاں ہاتھ استعمال کرنے میں حرج نہیں۔
- اگر کھانے کے دوران دایاں ہاتھ چکنا ہو تو بھی گلاس دائیں ہاتھ سے پکڑیں، یا دائیں سے پکڑے رکھیں اور بائیں سے سہارا دے دیں۔
کھانے کی دوسری سنتیں: شروع میں بسم اللہ پڑھنا، پلیٹ میں اپنے سامنے سے کھانا، اور آخر میں اللہ کی حمد کرنا۔
3دلائل و حوالہ جات
- صحیح مسلم، کتاب الاشربہ
- بہارِ شریعت، کھانے پینے کا بیان
عربی عبارات، ان کا ترجمہ اور حکم اخذ کرنے کی تفصیل
إذا أكل أحدكم فليأكل بيمينه، وإذا شرب فليشرب بيمينه، فإن الشيطان يأكل بشماله ويشرب بشماله
مفہوم: جب تم میں سے کوئی کھائے تو دائیں ہاتھ سے کھائے، اور جب پیے تو دائیں ہاتھ سے پیے، کیونکہ شیطان بائیں ہاتھ سے کھاتا اور بائیں ہاتھ سے پیتا ہے۔
حدیث کا حکم اور اس میں بیان کی گئی وجہ بتاتی ہے کہ بلا ضرورت بایاں ہاتھ استعمال کرنا ناپسندیدہ ہے۔
وَاللهُ أَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُهُ أَعْلَمُ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ