اگر ذبح کے وقت بسم اللہ نہ پڑھی گئی ہو تو کیا گوشت حلال ہے؟
سوال، ذاتی تفصیلات حذف کر کےاگر ذبح کرنے والا بسم اللہ نہ پڑھے تو کیا گوشت حلال رہتا ہے؟مزید
یہ نمونے کا جواب ہے جو سائٹ کا طریقۂ کار دکھانے کے لیے لکھا گیا ہے۔ یہ فقہ حنفی کی معروف کتب کے مطابق ہے، مگر ابھی کسی مفتی صاحب نے اس پر نظرثانی یا دستخط نہیں کیے، اس لیے یہ فتویٰ نہیں۔ اصل جواب کے لیے سوال پوچھیں۔ مفتی صاحب سے پوچھیں
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِكِ الْوَهَّابِ اَللّٰهُمَّ هِدَايَةَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
1مختصر جواب
اگر ذبح کرنے والے نے جان بوجھ کر اللہ کا نام چھوڑ دیا تو گوشت حرام ہے۔ اگر کوئی مسلمان بھول گیا تو گوشت حلال ہے۔
2تفصیلی جواب
ذبح کے وقت اللہ کا نام لینا (تسمیہ) گوشت حلال ہونے کی شرط ہے۔ لہٰذا:
- اگر ذبح کرنے والے نے جان بوجھ کر بسم اللہ اللہ اکبر، یا اللہ کا کوئی نام نہیں لیا تو جانور حلال نہیں، چاہے باقی سب درست ہو۔
- اگر کوئی مسلمان بھول گیا تو گوشت حلال ہے، کیونکہ بھول معاف ہے۔
- اللہ کا نام ذبح کرنے والا خود، کاٹتے وقت، ہر جانور پر لے۔
دوسری شرطیں بھی ضروری ہیں: ذبح کرنے والا مسلمان ہو (یا اہلِ کتاب، ان خاص شرائط کے ساتھ جو علماء بیان کرتے ہیں)، اور سانس کی نالی، کھانے کی نالی اور شہ رگیں کٹ جائیں۔ گوشت خریدتے وقت کسی قابلِ اعتماد مسلمان ذریعے پر بھروسہ کریں۔
3دلائل و حوالہ جات
- قرآن مجید، الانعام 6:121
- الہدایہ، کتاب الذبائح
- بہارِ شریعت، ذبح کا بیان
عربی عبارات، ان کا ترجمہ اور حکم اخذ کرنے کی تفصیل
ولا تأكلوا مما لم يذكر اسم الله عليه وإنه لفسق
مفہوم: اور اسے نہ کھاؤ جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو، بے شک یہ نافرمانی ہے۔
آیت اس گوشت سے منع کرتی ہے جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو۔ احناف صحابۂ کرام کی پیروی میں اسے جان بوجھ کر چھوڑنے پر لاگو کرتے ہیں، اور بھولنے والے مسلمان کو معذور مانتے ہیں، کیونکہ مسلمان کے دل میں اللہ کا نام ہوتا ہے۔
وَاللهُ أَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُهُ أَعْلَمُ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ