کیا بیچتے وقت عیب چھپانا جائز ہے؟
سوال، ذاتی تفصیلات حذف کر کےاگر میں پرانا فون یا گاڑی بیچ رہا ہوں تو کیا خریدار کو اس کی خرابیاں بتانا ضروری ہے؟مزید
یہ نمونے کا جواب ہے جو سائٹ کا طریقۂ کار دکھانے کے لیے لکھا گیا ہے۔ یہ فقہ حنفی کی معروف کتب کے مطابق ہے، مگر ابھی کسی مفتی صاحب نے اس پر نظرثانی یا دستخط نہیں کیے، اس لیے یہ فتویٰ نہیں۔ اصل جواب کے لیے سوال پوچھیں۔ مفتی صاحب سے پوچھیں
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِكِ الْوَهَّابِ اَللّٰهُمَّ هِدَايَةَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
1مختصر جواب
جی ہاں، بتانا لازم ہے۔ معلوم عیب چھپانا دھوکہ اور حرام ہے۔ اگر خریدار کو بعد میں ایسا عیب ملے جو بیچتے وقت موجود تھا اور بتایا نہیں گیا تو وہ چیز واپس کر کے رقم لے سکتا ہے۔
2تفصیلی جواب
بیچنے والے پر لازم ہے کہ جو عیب اسے معلوم ہو اور جس سے چیز کی قیمت کم ہوتی ہو وہ خریدار کو بتائے۔ لہٰذا:
- معلوم خرابی چھپانا، یا چیز کو اصل سے بہتر دکھانا دھوکہ اور گناہ ہے، چاہے سودا ہو جائے۔
- اگر خریدار کو ایسا عیب ملے جو خریدتے وقت موجود تھا اور اسے معلوم نہ تھا، تو اسے حق ہے کہ چیز واپس کر کے رقم لے لے (خیارِ عیب)، یا اسی حالت میں رکھ لے۔
- اگر بیچنے والا صاف کہہ دے کہ چیز "جیسی ہے، تمام خرابیوں سمیت" بیچی جا رہی ہے اور خریدار قبول کر لے، تو بعد میں عیب کی وجہ سے واپس نہیں کر سکتا۔ مگر ان الفاظ کے پیچھے جان بوجھ کر کوئی بڑی خرابی چھپانا پھر بھی بددیانتی ہے۔
تجارت میں سچائی برکت لاتی ہے؛ دھوکہ برکت ختم کر دیتا ہے۔
3دلائل و حوالہ جات
- صحیح مسلم، کتاب الایمان
- سنن ابن ماجہ، کتاب التجارات
- الہدایہ، خیارِ عیب کا بیان
عربی عبارات، ان کا ترجمہ اور حکم اخذ کرنے کی تفصیل
من غشنا فليس منا
مفہوم: جو ہمیں دھوکہ دے وہ ہم میں سے نہیں۔
المسلم أخو المسلم، ولا يحل لمسلم باع من أخيه بيعا فيه عيب إلا بينه له
مفہوم: مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، اور کسی مسلمان کے لیے حلال نہیں کہ اپنے بھائی کو عیب والی چیز بیچے اور اسے نہ بتائے۔
نبی کریم ﷺ نے پہلی بات اس وقت فرمائی جب غلے کے ڈھیر میں ہاتھ ڈالا اور نیچے سے گیلا پایا۔ دوسری حدیث عیب بتانے کو لازم قرار دیتی ہے۔
وَاللهُ أَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُهُ أَعْلَمُ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ