بیوہ اور مطلقہ کی عدت کتنی ہے؟
سوال، ذاتی تفصیلات حذف کر کےشوہر کی وفات کے بعد اور طلاق کے بعد عدت کتنی ہوتی ہے؟مزید
یہ نمونے کا جواب ہے جو سائٹ کا طریقۂ کار دکھانے کے لیے لکھا گیا ہے۔ یہ فقہ حنفی کی معروف کتب کے مطابق ہے، مگر ابھی کسی مفتی صاحب نے اس پر نظرثانی یا دستخط نہیں کیے، اس لیے یہ فتویٰ نہیں۔ اصل جواب کے لیے سوال پوچھیں۔ مفتی صاحب سے پوچھیں
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِكِ الْوَهَّابِ اَللّٰهُمَّ هِدَايَةَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
1مختصر جواب
بیوہ کی عدت 4 مہینے 10 دن ہے۔ جس مطلقہ کو حیض آتا ہو اس کی عدت تین مکمل حیض ہے؛ جسے حیض نہ آتا ہو اس کی تین مہینے۔ حاملہ کی عدت، دونوں صورتوں میں، بچے کی پیدائش پر ختم ہوتی ہے۔
2تفصیلی جواب
عدت حالت کے مطابق ہے:
- بیوہ، حاملہ نہ ہو: شوہر کی وفات سے 4 مہینے 10 دن، چاہے رخصتی ہوئی ہو یا نہیں۔
- مطلقہ جسے حیض آتا ہو: طلاق کے بعد تین مکمل حیض۔
- مطلقہ جسے عمر کی وجہ سے، یا کم عمری کی وجہ سے حیض نہ آتا ہو: تین مہینے۔
- حاملہ، بیوہ ہو یا مطلقہ: بچے کی پیدائش تک، جلد ہو یا دیر سے۔
- رخصتی اور خلوتِ صحیحہ سے پہلے طلاق: کوئی عدت نہیں۔
عدت میں نکاح یا منگنی جائز نہیں۔ عورت اسی گھر میں رہے جہاں بیوی کی حیثیت سے رہتی تھی، اور صرف حقیقی ضرورت سے نکلے؛ بیوہ مجبوری میں روزی کے لیے دن میں نکل سکتی ہے۔ بیوہ پوری عدت میں بناؤ سنگھار، خوشبو اور زیور سے پرہیز کرے۔
3دلائل و حوالہ جات
- قرآن مجید، البقرہ 2:228، 2:234
- قرآن مجید، الطلاق 65:4
- قرآن مجید، الاحزاب 33:49
- بہارِ شریعت، عدت کا بیان
عربی عبارات، ان کا ترجمہ اور حکم اخذ کرنے کی تفصیل
والذين يتوفون منكم ويذرون أزواجا يتربصن بأنفسهن أربعة أشهر وعشرا
مفہوم: اور تم میں سے جو وفات پائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں، وہ چار مہینے دس دن اپنے آپ کو روکے رکھیں۔
والمطلقات يتربصن بأنفسهن ثلاثة قروء
مفہوم: اور طلاق والی عورتیں تین حیض تک اپنے آپ کو روکے رکھیں۔
وأولات الأحمال أجلهن أن يضعن حملهن
مفہوم: اور حمل والیوں کی میعاد یہ ہے کہ وہ بچہ جن دیں۔
سورۂ طلاق میں حیض نہ آنے والیوں کے لیے تین مہینے بھی بیان ہیں، اور سورۂ احزاب رخصتی سے پہلے طلاق والی پر عدت نہیں رکھتی۔ حنفی مذہب میں تین قروء سے تین حیض مراد ہیں۔
وَاللهُ أَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُهُ أَعْلَمُ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ