کن سے نکاح حرام ہے؟
سوال، ذاتی تفصیلات حذف کر کےمرد کن رشتہ داروں سے کبھی نکاح نہیں کر سکتا، اور کیا کزنز آپس میں نکاح کر سکتے ہیں؟مزید
یہ نمونے کا جواب ہے جو سائٹ کا طریقۂ کار دکھانے کے لیے لکھا گیا ہے۔ یہ فقہ حنفی کی معروف کتب کے مطابق ہے، مگر ابھی کسی مفتی صاحب نے اس پر نظرثانی یا دستخط نہیں کیے، اس لیے یہ فتویٰ نہیں۔ اصل جواب کے لیے سوال پوچھیں۔ مفتی صاحب سے پوچھیں
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِكِ الْوَهَّابِ اَللّٰهُمَّ هِدَايَةَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
1مختصر جواب
مرد اپنی ماں، بیٹی، بہن، پھوپھی، خالہ، بھتیجی، بھانجی، انہی جیسے رضاعی رشتوں، بیوی کی ماں، باپ کی بیوی اور بیٹے کی بیوی سے کبھی نکاح نہیں کر سکتا۔ دو بہنوں کو، یا عورت اور اس کی پھوپھی یا خالہ کو ایک ساتھ نکاح میں نہیں رکھ سکتا۔ کزنز محرم نہیں اور نکاح کر سکتے ہیں۔
2تفصیلی جواب
مرد کے لیے ہمیشہ کے لیے حرام (محرم):
- نسب سے: ماں اور دادی نانی، بیٹیاں اور پوتیاں نواسیاں، بہنیں، پھوپھیاں اور خالائیں، اور بھائی بہن کی بیٹیاں۔
- رضاعت سے (بچپن میں دودھ پینے سے): دودھ پلانے والی عورت کے ذریعے یہی رشتے، جیسے رضاعی ماں اور رضاعی بہن۔
- مصاہرت سے: بیوی کی ماں، بیوی کی بیٹی جبکہ بیوی سے صحبت ہو چکی ہو، باپ کی بیوی اور بیٹے کی بیوی۔
جن کو ایک ساتھ جمع کرنا حرام ہے، ہمیشہ کے لیے نہیں:
- دو بہنیں ایک وقت میں۔
- کوئی عورت اور اس کی پھوپھی یا خالہ ایک ساتھ۔
چچا، ماموں، پھوپھی اور خالہ کی اولاد (کزنز) محرم نہیں۔ ان سے نکاح جائز ہے، اور اسی وجہ سے ان کے درمیان پردہ بھی ہے۔
3دلائل و حوالہ جات
- قرآن مجید، النساء 4:22-23
- صحیح بخاری، کتاب النکاح
- صحیح مسلم، کتاب الرضاع
- بہارِ شریعت، محرمات کا بیان
عربی عبارات، ان کا ترجمہ اور حکم اخذ کرنے کی تفصیل
حرمت عليكم أمهاتكم وبناتكم وأخواتكم وعماتكم وخالاتكم وبنات الأخ وبنات الأخت
مفہوم: تم پر حرام کی گئیں تمہاری مائیں، بیٹیاں، بہنیں، پھوپھیاں، خالائیں، بھتیجیاں اور بھانجیاں۔
يحرم من الرضاعة ما يحرم من النسب
مفہوم: جو رشتے نسب سے حرام ہیں وہ رضاعت سے بھی حرام ہیں۔
آیت آگے رضاعی رشتے، بیوی کی ماں اور بیٹے کی بیوی بیان کرتی ہے، اور دو بہنوں کو جمع کرنا حرام کرتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے مزید فرمایا کہ عورت کو اس کی پھوپھی یا خالہ کے ساتھ نکاح میں جمع نہ کیا جائے۔
وَاللهُ أَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُهُ أَعْلَمُ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ