کم از کم مہر کتنا ہے؟
سوال، ذاتی تفصیلات حذف کر کےکیا مہر کی کوئی کم یا زیادہ سے زیادہ مقدار ہے، اور مہرِ فاطمی کیا ہے؟مزید
یہ نمونے کا جواب ہے جو سائٹ کا طریقۂ کار دکھانے کے لیے لکھا گیا ہے۔ یہ فقہ حنفی کی معروف کتب کے مطابق ہے، مگر ابھی کسی مفتی صاحب نے اس پر نظرثانی یا دستخط نہیں کیے، اس لیے یہ فتویٰ نہیں۔ اصل جواب کے لیے سوال پوچھیں۔ مفتی صاحب سے پوچھیں
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِكِ الْوَهَّابِ اَللّٰهُمَّ هِدَايَةَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
1مختصر جواب
کم از کم مہر دس درہم چاندی ہے، یعنی تقریباً 30.62 گرام چاندی یا نکاح کے وقت اس کی قیمت۔ زیادہ کی کوئی حد نہیں، مگر حد سے زیادہ ناپسندیدہ ہے۔ مہرِ فاطمی 500 درہم (تقریباً 1.53 کلو چاندی) ہے، جسے بہت سے لوگ سنت کی پیروی میں رکھتے ہیں۔
2تفصیلی جواب
مہر بیوی کا حق ہے جو نکاح کی وجہ سے شوہر پر لازم ہوتا ہے:
- کم از کم دس درہم چاندی ہے، یعنی دو تولہ ساڑھے سات ماشہ، تقریباً 30.62 گرام چاندی، یا نکاح کے وقت اس کی قیمت۔ اگر اس سے کم مقرر کیا تو دس درہم لازم ہوں گے۔
- زیادہ کی کوئی مقرر حد نہیں، مگر دکھاوے کے لیے شوہر کی حیثیت سے بڑھ کر مقرر کرنا ناپسندیدہ ہے۔
- مہرِ فاطمی 500 درہم چاندی، تقریباً 1.53 کلو، ہے جو سیدہ فاطمہ کا مہر تھا۔ اس کی پیروی باعثِ برکت ہے، لازم نہیں۔
مہر معجل (نکاح پر یا مطالبے پر ادا) بھی ہو سکتا ہے اور مؤجل (طے شدہ وقت تک) بھی۔ یہ حقیقی قرض ہے: وقت گزرنے سے ختم نہیں ہوتا، اور ادا نہ ہوا ہو تو شوہر کی وفات کے بعد اس کے ترکے سے لیا جائے گا۔ بیوی معاف کر سکتی ہے، مگر صرف اپنی خوشی سے۔
3دلائل و حوالہ جات
- قرآن مجید، النساء 4:4
- قرآن مجید، النساء 4:24
- الہدایہ، مہر کا بیان
- بہارِ شریعت، مہر کا بیان
عربی عبارات، ان کا ترجمہ اور حکم اخذ کرنے کی تفصیل
وآتوا النساء صدقاتهن نحلة فإن طبن لكم عن شيء منه نفسا فكلوه هنيئا مريئا
مفہوم: اور عورتوں کو ان کے مہر خوشی سے دو؛ پھر اگر وہ اپنی خوشی سے اس میں سے کچھ تمہیں دے دیں تو اسے مزے سے کھاؤ۔
آیت مہر کو بیوی کا حق قرار دیتی ہے اور شوہر کو اسی وقت رکھنے کی اجازت دیتی ہے جب وہ خوشی سے دے۔ دس درہم کی کم از کم مقدار نبی کریم ﷺ اور صحابہ سے منقول ہے اور حنفی مذہب نے اسے اختیار کیا۔
وَاللهُ أَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُهُ أَعْلَمُ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ