حج کب فرض ہوتا ہے؟
سوال، ذاتی تفصیلات حذف کر کےکن شرائط کے پائے جانے سے حج فرض ہو جاتا ہے؟مزید
یہ نمونے کا جواب ہے جو سائٹ کا طریقۂ کار دکھانے کے لیے لکھا گیا ہے۔ یہ فقہ حنفی کی معروف کتب کے مطابق ہے، مگر ابھی کسی مفتی صاحب نے اس پر نظرثانی یا دستخط نہیں کیے، اس لیے یہ فتویٰ نہیں۔ اصل جواب کے لیے سوال پوچھیں۔ مفتی صاحب سے پوچھیں
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِكِ الْوَهَّابِ اَللّٰهُمَّ هِدَايَةَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
1مختصر جواب
حج زندگی میں ایک بار اس عاقل بالغ مسلمان پر فرض ہے جس کے پاس حاجتِ اصلیہ اور واپسی تک اہل و عیال کے خرچ سے زائد سفر اور قیام کا خرچ ہو، سفر کی صحت ہو اور راستہ پُرامن ہو۔ عورت کے ساتھ شوہر یا محرم بھی ضروری ہے۔ فرض ہونے کے بعد تاخیر نہ کی جائے۔
2تفصیلی جواب
حج ان باتوں کے پائے جانے سے فرض ہوتا ہے:
- مسلمان، بالغ، عاقل اور آزاد ہونا۔
- حج کے سفر، قیام اور کھانے کا خرچ ہونا، حاجتِ اصلیہ (گھر، کپڑے، کام کے اوزار) سے زائد اور واپسی تک اہل و عیال کی ضروریات سے زائد۔
- سفر کے قابل صحت ہونا۔
- راستہ عام طور پر پُرامن ہونا۔
- عورت کے لیے: شوہر یا محرم کا ساتھ ہونا، اور عدت میں نہ ہونا۔
حج زندگی میں ایک بار فرض ہے۔ حنفی مذہب میں فرض ہونے کے بعد پہلے ممکن سال ہی میں ادا کرنا چاہیے؛ بلا وجہ تاخیر گناہ ہے، اگرچہ بعد میں ادا کرے تو ادا ہو جائے گا۔
3دلائل و حوالہ جات
- قرآن مجید، آلِ عمران 3:97
- صحیح مسلم، کتاب الحج
- بہارِ شریعت، حج کا بیان
عربی عبارات، ان کا ترجمہ اور حکم اخذ کرنے کی تفصیل
ولله على الناس حج البيت من استطاع إليه سبيلا
مفہوم: اور اللہ کے لیے لوگوں پر اس گھر کا حج فرض ہے جو وہاں تک پہنچنے کی استطاعت رکھے۔
لا تسافر المرأة ثلاثة أيام إلا مع ذي محرم
مفہوم: عورت تین دن کا سفر محرم کے بغیر نہ کرے۔
آیت فرضیت کو استطاعت سے جوڑتی ہے۔ جب پوچھا گیا کہ کیا حج ہر سال ہے تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اگر میں ہاں کہہ دوں تو واجب ہو جائے گا، جس سے معلوم ہوا کہ یہ زندگی میں ایک بار ہے۔ سفر والی حدیث عورت کے لیے محرم کی شرط بیان کرتی ہے۔
وَاللهُ أَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُهُ أَعْلَمُ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ