کیا روزے میں دانت صاف کر سکتے ہیں؟
سوال، ذاتی تفصیلات حذف کر کےکیا روزے کی حالت میں مسواک یا ٹوتھ پیسٹ استعمال کرنا جائز ہے؟مزید
یہ نمونے کا جواب ہے جو سائٹ کا طریقۂ کار دکھانے کے لیے لکھا گیا ہے۔ یہ فقہ حنفی کی معروف کتب کے مطابق ہے، مگر ابھی کسی مفتی صاحب نے اس پر نظرثانی یا دستخط نہیں کیے، اس لیے یہ فتویٰ نہیں۔ اصل جواب کے لیے سوال پوچھیں۔ مفتی صاحب سے پوچھیں
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِكِ الْوَهَّابِ اَللّٰهُمَّ هِدَايَةَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
1مختصر جواب
روزے میں دن کے کسی بھی وقت مسواک جائز اور سنت ہے۔ ٹوتھ پیسٹ ذائقے کی وجہ سے روزے میں مکروہ ہے، اور اگر اس کا کچھ حصہ حلق میں چلا جائے تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔ پیسٹ سحری سے پہلے یا افطار کے بعد کریں۔
2تفصیلی جواب
دونوں میں فرق ہے:
- مسواک، یا بغیر پیسٹ کا خشک برش، روزے میں دن کے کسی بھی وقت جائز ہے، اور مسواک کی سنت کا ثواب بھی ملتا ہے۔
- ٹوتھ پیسٹ یا منجن روزے میں مکروہ ہے کیونکہ اس کا ذائقہ محسوس ہوتا ہے، اور کچھ حصہ حلق میں جانے کا واقعی خطرہ ہے۔
- اگر پیسٹ کا کچھ حصہ حلق سے اتر گیا تو روزہ ٹوٹ جائے گا اور قضا لازم ہوگی۔
آسان طریقہ یہ ہے کہ سحری میں صبحِ صادق سے پہلے اور افطار کے بعد پیسٹ سے برش کریں، اور دن میں صرف مسواک یا خشک برش استعمال کریں۔
3دلائل و حوالہ جات
- جامع ترمذی، کتاب الصوم
- رد المحتار، کتاب الصوم
- بہارِ شریعت، روزے کے مکروہات کا بیان
عربی عبارات، ان کا ترجمہ اور حکم اخذ کرنے کی تفصیل
رأيت النبي صلى الله عليه وسلم ما لا أحصي يتسوك وهو صائم
مفہوم: میں نے نبی کریم ﷺ کو روزے کی حالت میں اتنی بار مسواک کرتے دیکھا کہ شمار نہیں کر سکتا۔
حدیث بتاتی ہے کہ روزے میں مسواک جائز ہے۔ فقہاء نے لکھا کہ روزہ دار کے لیے بلا ضرورت کسی چیز کو چکھنا مکروہ ہے، اور یہی ٹوتھ پیسٹ کے مکروہ ہونے کی وجہ ہے۔
وَاللهُ أَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُهُ أَعْلَمُ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ