زکوٰۃ کن چیزوں پر ہے اور کن پر نہیں؟
سوال، ذاتی تفصیلات حذف کر کےکیا گھر، گاڑی اور فرنیچر پر بھی زکوٰۃ ہے یا صرف رقم اور سونے پر؟مزید
یہ نمونے کا جواب ہے جو سائٹ کا طریقۂ کار دکھانے کے لیے لکھا گیا ہے۔ یہ فقہ حنفی کی معروف کتب کے مطابق ہے، مگر ابھی کسی مفتی صاحب نے اس پر نظرثانی یا دستخط نہیں کیے، اس لیے یہ فتویٰ نہیں۔ اصل جواب کے لیے سوال پوچھیں۔ مفتی صاحب سے پوچھیں
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِكِ الْوَهَّابِ اَللّٰهُمَّ هِدَايَةَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
1مختصر جواب
زکوٰۃ سونے، چاندی، نقدی، بینک بیلنس، مالِ تجارت اور اس قرض پر ہے جس کی واپسی متوقع ہو، اور اس کی شرح ڈھائی فیصد ہے۔ رہائشی گھر، ذاتی گاڑی، فرنیچر، کپڑوں اور کام کے اوزار پر زکوٰۃ نہیں۔
2تفصیلی جواب
سال کے آخر میں جتنا زکوٰۃ والا مال ملکیت میں ہو اس کا چالیسواں حصہ (ڈھائی فیصد) زکوٰۃ ہے:
- سونا اور چاندی، کسی بھی شکل میں، موجودہ قیمتِ فروخت پر۔
- گھر میں رکھی نقدی اور بینک اکاؤنٹ کی رقم۔
- مالِ تجارت: جو چیز بیچنے کی نیت سے خریدی گئی ہو، موجودہ بازاری قیمت پر۔
- دوسروں کو دیا ہوا قرض جس کی واپسی کی امید ہو۔
ان پر زکوٰۃ نہیں:
- رہائشی گھر، چاہے بڑا ہو۔
- ذاتی استعمال کی گاڑی، فون یا کمپیوٹر۔
- گھر کا فرنیچر، کپڑے اور برتن۔
- روزی کمانے کے اوزار، مشینیں اور دکان کی عمارت۔
- کرائے پر دی ہوئی جائیداد: زکوٰۃ صرف بچائے ہوئے کرائے پر ہے۔
3دلائل و حوالہ جات
- قرآن مجید، التوبہ 9:34
- صحیح بخاری، کتاب الزکاۃ
- سنن ابی داؤد، کتاب الزکاۃ
- بہارِ شریعت، زکوٰۃ کا بیان
عربی عبارات، ان کا ترجمہ اور حکم اخذ کرنے کی تفصیل
والذين يكنزون الذهب والفضة ولا ينفقونها في سبيل الله فبشرهم بعذاب أليم
مفہوم: اور جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرتے ہیں اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے، انہیں دردناک عذاب کی خبر دو۔
ليس على المسلم في عبده ولا فرسه صدقة
مفہوم: مسلمان پر اس کے غلام اور اس کے گھوڑے میں زکوٰۃ نہیں۔
آیت سونے چاندی پر زکوٰۃ لازم کرتی ہے۔ حدیث ذاتی استعمال کی چیزوں کو مستثنیٰ کرتی ہے، اور حضرت سمرہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے بیچنے کے لیے رکھے مال پر زکوٰۃ نکالنے کا حکم دیا۔
وَاللهُ أَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُهُ أَعْلَمُ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ