عید کی نماز کا طریقہ کیا ہے؟
سوال، ذاتی تفصیلات حذف کر کےکیا عید کی نماز واجب ہے، اور زائد تکبیروں کے ساتھ اس کا طریقہ کیا ہے؟مزید
یہ نمونے کا جواب ہے جو سائٹ کا طریقۂ کار دکھانے کے لیے لکھا گیا ہے۔ یہ فقہ حنفی کی معروف کتب کے مطابق ہے، مگر ابھی کسی مفتی صاحب نے اس پر نظرثانی یا دستخط نہیں کیے، اس لیے یہ فتویٰ نہیں۔ اصل جواب کے لیے سوال پوچھیں۔ مفتی صاحب سے پوچھیں
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِكِ الْوَهَّابِ اَللّٰهُمَّ هِدَايَةَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
1مختصر جواب
عید کی نماز ان پر واجب ہے جن پر جمعہ فرض ہے۔ یہ دو رکعت ہے جن میں چھ زائد تکبیریں ہیں: پہلی رکعت میں ثنا کے بعد قراءت سے پہلے تین، اور دوسری میں قراءت کے بعد رکوع سے پہلے تین۔ خطبہ نماز کے بعد ہوتا ہے۔
2تفصیلی جواب
حنفی مذہب میں دونوں عیدوں کی نماز ہر اس شخص پر واجب ہے جس پر جمعہ فرض ہے۔ اس میں اذان اور اقامت نہیں۔
طریقہ:
- چھ زائد تکبیروں کے ساتھ دو رکعت نمازِ عید کی نیت کرے، تکبیرِ تحریمہ کہے اور ثنا پڑھے۔
- تین تکبیریں کہے، ہر بار کانوں تک ہاتھ اٹھائے؛ پہلی دو کے بعد ہاتھ چھوڑ دے اور تیسری کے بعد باندھ لے۔
- امام فاتحہ اور سورت پڑھے، اور پہلی رکعت معمول کے مطابق پوری ہو۔
- دوسری رکعت میں قراءت کے بعد تین تکبیریں کہے، ہر بار ہاتھ اٹھا کر چھوڑ دے؛ پھر ہاتھ اٹھائے بغیر چوتھی تکبیر کہہ کر رکوع میں جائے۔
- نماز پوری کرے، پھر خطبہ سنے جو سنت ہے اور نماز کے بعد ہوتا ہے۔
جو دیر سے شامل ہو وہ چھوٹی ہوئی تکبیریں ان قواعد کے مطابق ادا کرے جو امام صاحب یا کوئی عالم بتا دیں۔
3دلائل و حوالہ جات
- قرآن مجید، الکوثر 108:2
- سنن ابی داؤد، کتاب الصلاۃ
- بہارِ شریعت، نمازِ عید کا بیان
عربی عبارات، ان کا ترجمہ اور حکم اخذ کرنے کی تفصیل
كان يكبر أربعا تكبيره على الجنائز
مفہوم: آپ چار تکبیریں کہتے تھے، جیسے جنازے کی تکبیریں۔
حضرت ابو موسیٰ اشعری نے یہ اس وقت فرمایا جب ان سے پوچھا گیا کہ نبی کریم ﷺ عید کی نماز میں تکبیریں کیسے کہتے تھے۔ ہر رکعت میں چار، پہلی میں تکبیرِ تحریمہ اور دوسری میں رکوع کی تکبیر شامل کر کے، ہر رکعت میں تین زائد بنتی ہیں: کل چھ، اور یہی حنفی طریقہ ہے۔
وَاللهُ أَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُهُ أَعْلَمُ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ