English

مسافر نماز کیسے پڑھے؟ (قصر)

سوال، ذاتی تفصیلات حذف کر کےآدمی کب مسافر شمار ہوتا ہے اور نمازیں کیسے قصر کی جاتی ہیں؟مزید

IQ-DEMO-21سوال کی زبان: انگریزی1 ربیع الاول 1448ھ · 14 اگست، 2026

یہ نمونے کا جواب ہے جو سائٹ کا طریقۂ کار دکھانے کے لیے لکھا گیا ہے۔ یہ فقہ حنفی کی معروف کتب کے مطابق ہے، مگر ابھی کسی مفتی صاحب نے اس پر نظرثانی یا دستخط نہیں کیے، اس لیے یہ فتویٰ نہیں۔ اصل جواب کے لیے سوال پوچھیں۔ مفتی صاحب سے پوچھیں

نمونہ · ابھی کسی مفتی صاحب نے نظرثانی نہیں کی
فتویٰ نمبر IQ-DEMO-21اشاعت: 1 ربیع الاول 1448ھ

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِكِ الْوَهَّابِ اَللّٰهُمَّ هِدَايَةَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

1مختصر جواب

جو تقریباً 92 کلومیٹر (ساڑھے ستاون میل) یا زیادہ کے سفر کے ارادے سے نکلے، وہ اپنی آبادی سے نکلتے ہی مسافر ہے۔ ظہر، عصر اور عشاء میں چار کی جگہ دو رکعت پڑھے؛ فجر، مغرب اور وتر وہی رہتے ہیں۔ کسی جگہ 15 دن یا زیادہ ٹھہرنے کی نیت ہو تو پوری نماز پڑھے۔

2تفصیلی جواب

جب کوئی تقریباً 92 کلومیٹر یا زیادہ سفر کا ارادہ کرے اور اپنے شہر کی آبادی سے نکل جائے تو وہ شرعی مسافر ہے۔ پھر:

  1. چار رکعت والے فرض (ظہر، عصر، عشاء) دو رکعت ہو جاتے ہیں۔ حنفی مذہب میں یہ واجب ہے، اختیاری نہیں۔
  2. فجر (2)، مغرب (3) اور وتر (3) میں کوئی تبدیلی نہیں۔
  3. جلدی ہو تو سنتیں چھوڑ سکتا ہے اور اطمینان ہو تو پڑھے؛ فجر کی سنتیں نہ چھوڑے۔
  4. کسی ایک شہر یا قصبے میں 15 دن یا زیادہ ٹھہرنے کی نیت کر لے تو وہاں مقیم ہو جاتا ہے اور پوری نماز پڑھے گا۔
  5. مقیم امام کے پیچھے مسافر اس کے ساتھ پوری چار رکعتیں پڑھے گا۔

اپنے شہر کی آبادی میں واپس داخل ہوتے ہی دوبارہ پوری نماز پڑھے گا۔

3دلائل و حوالہ جات

  1. قرآن مجید، النساء 4:101
  2. صحیح بخاری، کتاب تقصیر الصلاۃ
  3. صحیح مسلم، کتاب صلاۃ المسافرین
  4. بہارِ شریعت، نمازِ مسافر کا بیان
عربی عبارات، ان کا ترجمہ اور حکم اخذ کرنے کی تفصیل

فرضت الصلاة ركعتين ركعتين في الحضر والسفر، فأقرت صلاة السفر وزيد في صلاة الحضر

مفہوم: نماز گھر اور سفر میں دو دو رکعت فرض ہوئی تھی، پھر سفر کی نماز اسی طرح رکھی گئی اور گھر کی نماز میں اضافہ کر دیا گیا۔

سیدہ عائشہ کے اس فرمان سے معلوم ہوتا ہے کہ مسافر کی اصل نماز دو رکعت ہے، اسی لیے احناف کے نزدیک قصر واجب ہے۔ تین دن کے سفر کی مسافت کو ہمارے علماء نے تقریباً ساڑھے ستاون میل یعنی 92 کلومیٹر بیان کیا ہے۔

وَاللهُ أَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُهُ أَعْلَمُ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ

4جواب اور تصدیق

Mufti Sample muftiمجیب · جواب دینے والے مفتی
Mufti Sample senior muftiمصدق · سینئر مفتی کی تصدیق
ISLAMIC QUERY · DARUL IFTA · HANAFI AHL-E-SUNNAT ·IQ-DEMO-211 Rabiʿ al-Awwal 1448TASDEEQ