جمعہ کس پر فرض ہے اور اس کی کتنی رکعتیں ہیں؟
سوال، ذاتی تفصیلات حذف کر کےجمعہ کی نماز میں حاضری کس پر لازم ہے اور اس کی رکعتیں کیا ہیں؟مزید
یہ نمونے کا جواب ہے جو سائٹ کا طریقۂ کار دکھانے کے لیے لکھا گیا ہے۔ یہ فقہ حنفی کی معروف کتب کے مطابق ہے، مگر ابھی کسی مفتی صاحب نے اس پر نظرثانی یا دستخط نہیں کیے، اس لیے یہ فتویٰ نہیں۔ اصل جواب کے لیے سوال پوچھیں۔ مفتی صاحب سے پوچھیں
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِكِ الْوَهَّابِ اَللّٰهُمَّ هِدَايَةَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
1مختصر جواب
جمعہ شہر یا قصبے میں رہنے والے ہر عاقل، بالغ، تندرست، مقیم مسلمان مرد پر فرض ہے۔ یہ خطبے کے بعد جماعت سے دو رکعت فرض ہے اور ظہر کی جگہ ہے۔ عورتوں، مسافروں اور بیماروں پر لازم نہیں؛ اگر نہ جائیں تو ظہر پڑھیں۔
2تفصیلی جواب
جمعہ اس مرد پر فرض ہے جو مسلمان، بالغ، عاقل، آزاد، تندرست، مقیم ہو اور وہاں پہنچ سکتا ہو، جہاں شہر یا قصبے میں جمعہ ہوتا ہو۔
اس کی رکعتیں:
- خطبے سے پہلے 4 سنتِ مؤکدہ۔
- خطبہ، جسے خاموشی سے سننا واجب ہے۔
- جماعت کے ساتھ 2 رکعت فرض۔
- اس کے بعد 4 سنتِ مؤکدہ، اور بہت سے لوگ مزید 2 بھی پڑھتے ہیں۔
جمعہ ظہر کی جگہ ہے، لہٰذا جس نے جمعہ پڑھ لیا وہ ظہر نہیں پڑھے گا۔ عورتیں، مسافر، بیمار اور دوسرے معذور حاضری کے پابند نہیں؛ وہ گھر پر ظہر کی چار رکعتیں پڑھیں، البتہ اگر جمعہ میں شریک ہو جائیں تو ان کا جمعہ ادا ہو جاتا ہے۔ بلا عذر جمعہ چھوڑنا سخت گناہ ہے۔
3دلائل و حوالہ جات
- قرآن مجید، الجمعہ 62:9
- سنن ابی داؤد، کتاب الصلاۃ
- بہارِ شریعت، جمعہ کا بیان
عربی عبارات، ان کا ترجمہ اور حکم اخذ کرنے کی تفصیل
يا أيها الذين آمنوا إذا نودي للصلاة من يوم الجمعة فاسعوا إلى ذكر الله وذروا البيع
مفہوم: اے ایمان والو! جب جمعہ کے دن نماز کے لیے اذان دی جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف دوڑو اور خرید و فروخت چھوڑ دو۔
الجمعة حق واجب على كل مسلم في جماعة إلا أربعة: عبد مملوك، أو امرأة، أو صبي، أو مريض
مفہوم: جمعہ جماعت کے ساتھ ہر مسلمان پر لازم حق ہے سوائے چار کے: غلام، عورت، بچہ اور بیمار۔
آیت حاضری کو لازم کرتی ہے اور حدیث بتاتی ہے کہ کون مستثنیٰ ہے۔
وَاللهُ أَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُهُ أَعْلَمُ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ