قضا نمازیں کیسے ادا کروں؟
سوال، ذاتی تفصیلات حذف کر کےماضی میں میری بہت سی نمازیں قضا ہوئیں اور صحیح تعداد معلوم نہیں۔ کیا ان کی قضا لازم ہے اور کیسے کروں؟مزید
یہ نمونے کا جواب ہے جو سائٹ کا طریقۂ کار دکھانے کے لیے لکھا گیا ہے۔ یہ فقہ حنفی کی معروف کتب کے مطابق ہے، مگر ابھی کسی مفتی صاحب نے اس پر نظرثانی یا دستخط نہیں کیے، اس لیے یہ فتویٰ نہیں۔ اصل جواب کے لیے سوال پوچھیں۔ مفتی صاحب سے پوچھیں
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِكِ الْوَهَّابِ اَللّٰهُمَّ هِدَايَةَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
1مختصر جواب
جی ہاں۔ ہر چھوٹی ہوئی فرض نماز اور وتر کی قضا لازم ہے؛ سنتوں کی قضا نہیں۔ تعداد معلوم نہ ہو تو زیادہ کی طرف اندازہ لگائیں یہاں تک کہ غالب گمان ہو جائے کہ کچھ باقی نہیں، اور نمازیں چھوڑنے پر توبہ بھی کریں۔
2تفصیلی جواب
قضا نمازوں کی ادائیگی فرض ہے، چاہے بھول، نیند یا سستی سے چھوٹی ہوں۔ صرف فرض اور وتر کی قضا ہے، سنتوں کی نہیں۔
اگر تعداد معلوم نہ ہو:
- بالغ ہونے کی عمر سے تعداد کا اندازہ لگائیں، اور زیادہ کی طرف رہیں، یہاں تک کہ غالب گمان ہو جائے کہ کوئی باقی نہیں۔
- ہر نماز میں یہ نیت کریں کہ "میرے ذمے جو سب سے پہلی فجر (یا ظہر وغیرہ) ہے"، تاکہ ہر نماز سب سے پرانی قضا ادا کرے۔
- روزانہ جتنی ہو سکیں پڑھیں، جیسے ہر وقت کی نماز کے ساتھ ایک دن کی، تین مکروہ اوقات (طلوع، زوال اور غروب) کے سوا کسی بھی وقت۔
قضا ادا کرنے سے جان بوجھ کر نماز چھوڑنے کا گناہ معاف نہیں ہوتا؛ اس کے لیے سچی توبہ بھی ضروری ہے۔
3دلائل و حوالہ جات
- صحیح بخاری، کتاب مواقیت الصلاۃ
- صحیح مسلم، کتاب المساجد
- بہارِ شریعت، قضا نماز کا بیان
عربی عبارات، ان کا ترجمہ اور حکم اخذ کرنے کی تفصیل
من نسي صلاة فليصل إذا ذكرها لا كفارة لها إلا ذلك
مفہوم: جو کوئی نماز بھول جائے وہ یاد آنے پر پڑھ لے، اس کا کفارہ اس کے سوا کچھ نہیں۔
جب بھولنے والے پر قضا لازم ہے تو بلا عذر چھوڑنے والے پر بدرجۂ اولیٰ لازم ہے۔ فقہاء نے وتر کو، جو واجب ہے، بھی قضا ہونے والی نمازوں میں شمار کیا۔
وَاللهُ أَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُهُ أَعْلَمُ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ