سجدۂ سہو کب واجب ہوتا ہے اور اس کا طریقہ کیا ہے؟
سوال، ذاتی تفصیلات حذف کر کےنماز میں غلطی ہو جائے تو سجدۂ سہو کب کریں اور اس کا طریقہ کیا ہے؟مزید
یہ نمونے کا جواب ہے جو سائٹ کا طریقۂ کار دکھانے کے لیے لکھا گیا ہے۔ یہ فقہ حنفی کی معروف کتب کے مطابق ہے، مگر ابھی کسی مفتی صاحب نے اس پر نظرثانی یا دستخط نہیں کیے، اس لیے یہ فتویٰ نہیں۔ اصل جواب کے لیے سوال پوچھیں۔ مفتی صاحب سے پوچھیں
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِكِ الْوَهَّابِ اَللّٰهُمَّ هِدَايَةَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
1مختصر جواب
جب بھول کر نماز کا کوئی واجب چھوٹ جائے، یا کسی فرض یا واجب میں تاخیر ہو جائے تو سجدۂ سہو واجب ہے۔ آخری قعدے میں التحیات کے بعد دائیں طرف ایک سلام پھیر کر دو سجدے کرے، پھر بیٹھ کر دوبارہ التحیات، درود اور دعا پڑھ کر سلام پھیرے۔
2تفصیلی جواب
سجدۂ سہو اس وقت واجب ہوتا ہے جب بھول کر:
- کوئی واجب چھوٹ جائے، جیسے چار رکعت والی نماز میں پہلا قعدہ بھول جانا، یا اس رکعت میں سورۂ فاتحہ یا سورت ملانا بھول جانا جہاں یہ واجب ہے۔
- کسی فرض یا واجب میں تاخیر ہو جائے، جیسے تین بار "سبحان اللہ" کہنے کی مقدار سوچ میں خاموش رہ جانا۔
طریقہ:
- آخری قعدے میں التحیات پڑھے۔
- دائیں طرف ایک سلام پھیرے۔
- عام نماز کی طرح دو سجدے کرے۔
- پھر بیٹھ کر التحیات، درود اور دعا پڑھے اور دونوں طرف سلام پھیر دے۔
اگر جان بوجھ کر واجب چھوڑا تو سجدۂ سہو کافی نہیں، نماز دوبارہ پڑھنا ہوگی۔ اور اگر فرض چھوٹا تو نماز ہی نہیں ہوئی۔
3دلائل و حوالہ جات
- سنن ابی داؤد، کتاب الصلاۃ
- الہدایہ، سجدۂ سہو کا بیان
- بہارِ شریعت، سجدۂ سہو کا بیان
عربی عبارات، ان کا ترجمہ اور حکم اخذ کرنے کی تفصیل
لكل سهو سجدتان بعد ما يسلم
مفہوم: ہر بھول کے لیے سلام کے بعد دو سجدے ہیں۔
یہ روایت سلام کے بعد سجدۂ سہو کرنے کے حنفی طریقے کی بنیاد ہے۔ فقہاء نے اسے بھول تک محدود رکھا، کیونکہ جان بوجھ کر واجب چھوڑنا ایسی کمی ہے جسے دو سجدے پورا نہیں کرتے۔
وَاللهُ أَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُهُ أَعْلَمُ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ