اسلام کے پانچ ارکان کیا ہیں؟
سوال، ذاتی تفصیلات حذف کر کےاسلام کے پانچ ارکان کون سے ہیں، اور کیا یہ سب ہر مسلمان پر فرض ہیں؟مزید
یہ نمونے کا جواب ہے جو سائٹ کا طریقۂ کار دکھانے کے لیے لکھا گیا ہے۔ یہ فقہ حنفی کی معروف کتب کے مطابق ہے، مگر ابھی کسی مفتی صاحب نے اس پر نظرثانی یا دستخط نہیں کیے، اس لیے یہ فتویٰ نہیں۔ اصل جواب کے لیے سوال پوچھیں۔ مفتی صاحب سے پوچھیں
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِكِ الْوَهَّابِ اَللّٰهُمَّ هِدَايَةَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
1مختصر جواب
اسلام کے پانچ ارکان یہ ہیں: کلمۂ شہادت، پانچ وقت کی نماز، زکوٰۃ، رمضان کے روزے اور حج۔ نماز اور روزہ ہر عاقل بالغ مسلمان پر فرض ہیں، جبکہ زکوٰۃ اور حج صرف ان پر جن میں ان کی شرائط پائی جائیں۔
2تفصیلی جواب
نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے:
- اس بات کی گواہی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔
- نماز قائم کرنا۔
- زکوٰۃ ادا کرنا۔
- بیت اللہ کا حج کرنا۔
- رمضان کے روزے رکھنا۔
کلمۂ شہادت باقی سب ارکان کی بنیاد ہے۔ پانچ نمازیں اور رمضان کے روزے ہر عاقل بالغ مسلمان پر فرض ہیں۔ زکوٰۃ اسی پر فرض ہے جو نصاب کا مالک ہو اور اس پر سال گزر جائے، اور حج زندگی میں ایک بار اس پر فرض ہے جو سفر کی استطاعت اور صحت رکھتا ہو۔
3دلائل و حوالہ جات
- صحیح بخاری، کتاب الایمان، حدیث 8
- صحیح مسلم، کتاب الایمان، حدیث 16
- قرآن مجید، آلِ عمران 3:97
عربی عبارات، ان کا ترجمہ اور حکم اخذ کرنے کی تفصیل
بني الإسلام على خمس: شهادة أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله، وإقام الصلاة، وإيتاء الزكاة، والحج، وصوم رمضان
مفہوم: اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے: اس بات کی گواہی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ دینا، حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔
یہ حدیث پانچوں ارکان صراحت سے بیان کرتی ہے۔ زکوٰۃ اور حج کی شرائط ان آیات سے ہیں جو انہیں صاحبِ نصاب اور صاحبِ استطاعت پر فرض کرتی ہیں۔
وَاللهُ أَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُهُ أَعْلَمُ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ